الف – انفرادی اثرات
سعادت کی چوٹیوں تک پہنچنے کے لیے سب سے اہم عمل
آپ جوان ہیں، آپ کے دل پاک ہیں، بے داغ ہیں۔ اس بات کی گہرائی تک بھی آپ ابھی نہیں پہنچ سکتے کہ اس بے داغی کا مطلب کیا ہے، آلودہ دلوں کی مصیبت کہاں ہے؛ آپ جو جوان ہیں، ابھی بہت عرصے تک اس بات تک نہیں پہنچ پائیں گے؛ جب آپ ہماری عمر کے لگ بھگ پہنچیں گے، تب اس مصیبت کو سمجھیں گے، دیکھیں گے کہ جوانی کے دور میں دل کی یہ شفافیت کتنی قدر و قیمت رکھتی ہے، جو پھر واپس بھی نہیں آ سکتی۔
آج یہ سرمایہ آپ کے اختیار میں ہے... اس پاک اور شفاف دل کو جتنا ہو سکے، عظمت کے سرچشمے سے، حقیقت کے سرچشمے سے، حسن و جمال کے سرچشمے سے – یعنی باری تعالیٰ کی ذاتِ مقدس سے – جوڑیے اور اس کے قریب کیجیے۔ اگر آپ کامیاب ہو گئے تو عمر کے آخر تک سعادت مندانہ زندگی گزاریں گے؛ اگر ابھی کامیاب نہ ہوئے تو بیس سال بعد یہ کام زیادہ سخت ہوگا؛ اگر بیس سال بعد بھی – جب آپ لوگوں کی عمر ۴۰ سال، ۴۵ سال ہوگی – کامیاب نہ ہوئے تو اس کے بیس سال بعد یہ بہت بہت زیادہ مشکل ہوگا؛ یعنی میری موجودہ عمر سے کم عمر میں؛ یہ بہت سخت ہو جائے گا۔ ایسا نہیں کہ ناممکن ہو، لیکن مشکل ہے۔ ابھی دل کو خدا سے جوڑ لیجیے۔ اس کا راستہ بھی شرعِ مقدس میں کھلا ہوا ہے؛ یہ کوئی پراسرار اور پیچیدہ کام نہیں ہے۔ آپ نیچے سے پہاڑ کی چوٹی کو دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ وہاں موجود ہیں؛ ایسا نہیں ہے کہ آپ یہ تصور کریں کہ یہ لوگ پر مار کر اڑے اور وہاں جا پہنچے؛ نہیں، یہ لوگ اسی راستے سے آگے بڑھے اور وہاں پہنچے جو آپ کے قدموں کے سامنے ہے۔ ہم وہم میں مبتلا نہ ہوں، یہ خیال نہ کریں کہ کسی غیر عادی اور غیر معمولی حرکت کے ذریعے ان چوٹیوں تک پہنچا جا سکتا ہے؛ نہیں، جن لوگوں کو آپ ان چوٹیوں پر دیکھتے ہیں، وہ انہی راستوں سے گزرے ہیں۔ یہ راستے کیا ہیں؟ پہلے درجے میں، گناہ کو ترک کرنا۔ اس کا کہنا آسان ہے، اس پر عمل مشکل ہے؛ لیکن یہ ناگزیر ہے۔ جھوٹ نہ بولنا، خیانت نہ کرنا، طرح طرح کی جنسی اور شہوانی لغزشوں سے پرہیز کرنا، گناہوں سے پرہیز کرنا؛ اس کا سب سے اہم قدم یہ ہے۔ گناہ ترک کرنے کے بعد، واجبات کی ادائیگی، اور تمام واجبات میں سب سے اہم نماز ہے۔ ”وَاعلَم اَنّ کلَّ شَیءٍ مِن عَمَلِکَ تَبَعٌ لِصَلاتِکَ“؛ انسان کا ہر کام نماز کے تابع ہے۔ نماز وقت پر پڑھیے، توجہ کے ساتھ اور حضورِ قلب کے ساتھ پڑھیے۔ حضورِ قلب یعنی آپ یہ جانیں کہ آپ کسی سے بات کر رہے ہیں؛ یہ جانیں کہ آپ کا ایک مخاطب ہے جس سے آپ بات کر رہے ہیں۔ اگر آپ نے اپنے اندر اس حالت کی مشق کر لی، اگر آپ یہ یکسوئی پیدا کر سکے، تو یہ عمر کے آخر تک آپ کے پاس باقی رہے گی... ابھی سے یہ عادت ڈالیے کہ نماز کی حالت میں اپنے اندر یہ یکسوئی پیدا کریں اور اسے وجود میں لائیں۔ تب یہ وہ صلاۃ ہے جو: ”تَنهَی عَنِ الفَحشاءِ والمُنکَرِ“۔ ”تنهی“ یعنی آپ کو روکتی ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ کے سامنے کوئی رکاوٹ کھڑی کر دیتی ہے کہ پھر آپ گناہ کر ہی نہ سکیں؛ نہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ مسلسل آپ سے کہتی رہتی ہے کہ گناہ نہ کرو۔ اچھا، جب دن میں کئی بار انسان کے دل کے اندر سے اس سے کہا جائے کہ گناہ نہ کرو، گناہ نہ کرو، تو انسان گناہ نہیں کرتا۔ یہ ہے نماز۔
دلوں کے سکون کا باعث اور پریشانیوں کو دور کرنے والی
جس طرح قیامِ نماز کی بشارت پیغمبرِ عظیم الشان (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو – جیسا کہ حدیث میں آیا ہے – وجد میں لے آتی تھی اور آپ بلال سے، جو ہمیشہ نماز کی بشارت سنایا کرتے تھے، فرماتے تھے: ”ارحنا یا بلال!“، یعنی اے بلال! اذان کے ذریعے، جو نماز کی بشارت ہے، میرے دل کو راحت پہنچاؤ! اسی طرح نماز کی تعظیم اور اس کے نام کو پھیلانا اور بلند کرنا بھی بندگانِ خدا کے دلوں کو وجد و نشاط عطا کرتا ہے اور ان کے آفاق سے ملال اور اضطراب کے سیاہ بادلوں کو چھانٹ دیتا ہے، اور یہ خود نماز کی اس خصوصیت سے پیدا ہوتا ہے کہ وہ نمازی کے لیے دلوں کے سکون کا باعث اور پریشانیوں اور روحانی فکروں کو دور کرنے والی ہے۔
گھٹن کے دور کے دنوں میں بھی جب مومن افراد حکمران نظام کے دباؤ کے مقابلے میں اور آرام دہ زندگی کے وسوسوں اور ترغیبات کے مقابلے میں – جو انہیں جدوجہد ترک کرنے پر مجبور کرتی تھیں – مزاحمت کرنا چاہتے تھے، تو روزے کا رخ کرتے تھے۔ خدا کی عبادات ایسی ہی ہیں۔ پروردگار کے حضور حاضری ایسی ہی ہے۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو سکون پاتے ہیں؛ روح کے اضطراب اور تلاطم سے نجات پاتے ہیں۔ جب آپ خدائے متعال سے مناجات اور تضرع و زاری کرتے ہیں تو اپنی جان کو صاف اور پاکیزہ کرتے ہیں، آلودگیوں کو اس سے دور کرتے ہیں۔ جب آپ روزہ رکھتے ہیں تو اپنے آپ کو فولاد کی طرح مضبوط اور آبدیدہ کرتے ہیں۔ ایسا ہی ہے۔
جو کچھ عبادات کے ذریعے ہمیں حاصل ہوتا ہے، وہ بہت، بہت قیمتی ہے؛ بہت زیادہ ہے۔ ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمارے لیے نماز، روزہ اور عبادات مقرر فرمائیں؛ ہمیں یہ موقع دیا کہ ہم یہ فوائد اپنے لیے فراہم کریں۔
حقیقی سرور و نشاط کا عامل
وہ دعا جو نمازِ شب کے سجدے میں پڑھی جاتی ہے اور امام نے بھی ایک بار اپنی تقریر میں اسے بیان کیا، یہ ہے: ”اللهم ارزقنی التجافی عن دارالغرور و الانابة الی دارالسرور“[اے اللہ! مجھے دھوکے کے گھر سے کنارہ کشی اور سرور کے گھر کی طرف رجوع نصیب فرما]۔ یہ معتنا بہسرور ہے؛ یعنی وہ خدا سے یہ مانگتا ہے کہ اس کا دل دارِ سرور کی طرف مائل ہو جائے۔
بھلا یہ کیسا سرور ہے؟ ”دارِ سرور“ یعنی دارِ عقبیٰ، آخرت کی دنیا؛ وہ دنیا جس میں جنت ہے؛ یہ ہے ”دارِ سرور“؛ یہ مومنین کا سرور ہے؛ یہ نہیں ہو سکتا کہ انسان پچاس سالہ، ساٹھ سالہ، اسّی سالہ عمر کی مدت میں اس سرور کو محسوس نہ کرے؛ اس کا تو کوئی مطلب ہی نہیں؛ انسان کو یہ سرور محسوس کرنا چاہیے۔ یہ سرور ایسا سرور ہے جس کے ساتھ غم نہیں ہے۔ یہ ظاہری خوشیاں جو ہمیں حاصل ہوتی ہیں، اکثر غم کے ساتھ ہوتی ہیں؛ اکثر شدید محبتیں غم کے ساتھ ہوتی ہیں۔ اگرچہ محبت خوشی لانے والا عامل ہے اور انسان کو نشاط بخشتی ہے، لیکن جس نسبت سے اس میں نشاط ہے، اسی نسبت سے غم بھی ہے۔ محبت ہر مرحلے میں اپنے نشاط کے ساتھ ایک ملا ہوا غم رکھتی ہے۔ کسی نے کہا ہے:
قُرب کا رنج بُعد سے کہیں بڑھ کر ہے، میرا جگر قُرب کے رنج سے خون ہے
مجھے نہیں معلوم یہ شعر کس کا ہے؛ برسوں پہلے، ایک بار میں نے اسے لکھ لیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ وصل کی حالت میں بھی پھر رنج ہے:
بُعد میں وصال کی امید کے سوا کچھ نہیں، قُرب میں سراسر زوال کا خوف ہے
کم از کم یہ ہے۔ اسے یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ یہ خوشگوار حالت، یہ قرب، یہ وصال زائل ہو جائے گا۔ تمام مادی وسائل ایسے ہی ہیں؛ سوائے معنوی محبت، سوائے معنوی قرب، سوائے معنوی سرور کے، جو سرے سے ختم ہونے والا ہی نہیں؛ یعنی جو شخص واقعی خدائے متعال سے محبت کرنے لگتا ہے، کیا اسے زوال کا خوف ہوتا ہے؟! خدا کے وصل میں، یعنی اس عرفانی اور معنوی وصل میں، کیا زوال کا کوئی خوف ہے؟! نہیں۔
میں سرور کو نماز میں دیکھتا ہوں؛ یہ جو میں کہہ رہا ہوں، حقیقتاً میرا احساس ہے۔ بعض اوقات انسان کسی حادثے سے، کسی خبر سے، کسی واقعے سے، کسی محاذ اور کسی میدان میں کسی بے بسی سے غمگین ہوتا ہے اور کسی ایسی چیز کی پناہ لینا چاہتا ہے جو اس غم کو دور کر دے۔ کبھی انسان تفریح اور دوستی کی، رفاقت اور ہنسی مذاق کی پناہ لیتا ہے۔ کچھ لوگ ایسا کر پاتے ہیں، کچھ لوگوں کو یہ میسر ہی نہیں آتا اور وہ نہیں کر پاتے؛ لیکن میں نے تجربے سے یہ پایا ہے کہ وہ عامل جو ایسی حالتوں میں ہمیشہ انسان کو مسرت بخشتا ہے، نماز ہے؛ یعنی انسان جب نماز کی طرف جاتا ہے تو اس کا دل کھل جاتا ہے اور وہ معنوی مسرت اس میں پیدا ہو جاتی ہے؛ کیوں؟ اس لیے کہ نماز وہ مرحلہ ہے جس میں انسان خدا سے، بغیر کسی واسطے اور بغیر کسی پردے کے، بات کرتا ہے؛ وہ حقیقی مسرت ہے۔ اس مسرت سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
یادِ خدا؛ عمل کی درستی اور راہ میں ثابت قدمی کی ضامن
خدا سے رابطہ عمل کی درستی اور راہ میں ثابت قدمی کا ضامن ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس شاہراہ پر صحیح طریقے سے چلیں، دل فریب اور ناپائیدار ظاہری چیزوں کی وجہ سے راستے سے بھٹک نہ جائیں اور منزل کی طرف سیدھے آگے بڑھیں، تو اس کام میں یقیناً یادِ خدا، خدا پر بھروسہ اور خدا سے دائمی اتصال ضروری ہے؛ اسے ہمیں اپنا مستقل دستور العمل بنانا چاہیے۔ یہ جو شاعر کہتا ہے: ”خوشا وہ لوگ جو ہمیشہ نماز میں ہیں“، اس سے اس کی مراد یہ نہیں کہ وہ ہمیشہ قبلہ رخ بیٹھے یا کھڑے رہتے ہیں یا رکوع و سجود کرتے رہتے ہیں؛ مراد نماز کی روح اور ذکر اور یادِ خدا ہے۔ ہمیشہ یادِ خدا میں رہنا چاہیے۔
نماز کے اذکار؛ الٰہی معارف سے زیادہ آشنائی کا باعث
نماز کے کلمات اور اذکار میں سے ہر ایک ایک خلاصہ ہے جو دین کے معارف کے کسی حصے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور بار بار اور پے در پے اسے نمازی کو یاد دلاتا ہے۔ جو نماز معانی میں تدبر کے ساتھ اور سہو و غفلت کے بغیر ادا کی جائے، وہ انسان کو روز بروز الٰہی معارف سے زیادہ آشنا اور ان کا زیادہ دلدادہ بنا دیتی ہے۔
صبر کے استحکام اور تقویت میں نماز کی تاثیر
صلاۃ کو صلاۃ کے عام مفہوم میں لیجیے؛ یعنی توجہ، ذکر، خشوع؛ ورنہ نماز کی ظاہری صورت، جبکہ وہ ذکر سے خالی ہو، مقصود نہیں ہے۔ اسی لیے اس آیۂ شریفہ میں بھی، جس میں صلاۃ کے بارے میں فرمایا ہے، اس کے بعد فرماتا ہے: ”ولَذِكرُ الله أكبَرُ“۔ ”إنّ الصّلاة تَنهَی عن الفَحشاءِ والمنكَرِ“یہ صلاۃ کی ایک خاصیت ہے؛ لیکن فحشا و منکر سے روکنے سے بڑھ کر خود خدا کا ذکر ہے جو صلاۃ میں موجود ہے۔
یہ صلاۃ، یعنی وہ ذکر، توجہ، خشوع، خدا سے قلبی رابطہ، صبر کے استحکام میں اثر رکھتا ہے... اسی لیے قرآن میں بھی ملاحظہ کیجیے کہ ”واصبِر و ما صَبرُكَ إلّا بالله“ہے۔ البتہ ”واصبِر“ قرآن میں بہت آیا ہے، کہ اگر انسان ان آیات کو پڑھنا چاہے تو ان میں سے ہر ایک معرفت کا ایک سمندر ہے۔ اب یہ آیۂ شریفہ ”واصبِر و ما صَبرُكَ إلّا بالله“؛ خدا کی مدد ہی سے تم صبر کر سکتے ہو؛ یعنی استقامت اسی وقت ختم نہ ہونے والی بنتی ہے جب وہ ذکرِ الٰہی کے کبھی ختم نہ ہونے والے سرچشمے سے متصل ہو۔ اگر ہم صبر کو – اور صبر سے مراد وہی پائیداری، ڈٹے رہنا، استقامت اور پیچھے نہ ہٹنا ہے – ذکرِ الٰہی کے اس مرکز سے، اس لازوال سرچشمے سے جوڑ دیں، تو یہ صبر پھر کبھی ختم نہیں ہوگا۔ جب صبر ختم نہ ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام چوٹیوں کی جانب انسان کے اس سفر میں کوئی وقفہ نہیں آئے گا۔ یہ چوٹیاں جن کی ہم بات کر رہے ہیں، دنیا اور آخرت دونوں کی چوٹیاں ہیں: علم کی چوٹی، دولت کی چوٹی، سیاسی اقتدار کی چوٹی، معنویت کی چوٹی، تہذیبِ اخلاق کی چوٹی، انسانیت کے بلند عرش کی جانب عروج کی چوٹی۔ ان میں سے کسی میں بھی پھر ٹھہراؤ نہیں آئے گا؛ کیونکہ ہماری حرکت میں وقفے بے صبری ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔ جب دو مادی لشکر ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہوتے ہیں تو جس کا صبر پہلے ختم ہو جائے وہ شکست کھاتا ہے؛ اور جس کا صبر و مقاومت دیر سے ختم ہو، وہ فتح یاب ہوگا؛ کیونکہ اس کا سامنا ایک ایسے لمحے سے ہوگا جب فریقِ مقابل اپنا صبر کھو چکا ہوگا۔ یہ اس کی بہت واضح، نمایاں اور محسوس مثال ہے؛ تمام میدانوں میں ایسا ہی ہے۔
نماز کے ذریعے خدا سے رابطے کی حفاظت
خدا سے رابطہ محفوظ رکھیے۔ اس رابطے کو محفوظ رکھنے کا وسیلہ بھی سب کی دسترس میں ہے۔ اگر یہی پنج گانہ نماز توجہ کے ساتھ، حضورِ قلب کے ساتھ اور اس دھیان کے ساتھ پڑھی جائے کہ ہم خدا کے سامنے کھڑے ہیں، تو یہ بہترین رابطہ ہے اور روز بروز آپ کے دل کو زیادہ نورانی کرے گی۔ وہ نوجوان جو شب ہائے قدر میں مسجدوں، امام بارگاہوں اور مقدس حرموں میں جمع ہوئے، گریہ کیا، دعائیں پڑھیں، قرآن سر پر رکھا، شب بیداری کی اور اپنے دلوں کو الٰہی محبت کے نور سے منور کیا، وہ اس رابطے کو محفوظ رکھیں، کہ وہ اس سے فیض یاب ہوں گے۔ ان شاء اللہ وقت گزرنے کے ساتھ، آئندہ برسوں میں، یہ رابطہ روز بروز بڑھتا جائے گا؛ اسی راستے سے انسان اپنے مطلوبہ کمال اور اپنی خلقت کی غایت تک پہنچے گا۔ زندگی کے تمام میدانوں میں کامیابی بھی اسی پر منحصر ہے۔
نماز، خدا سے معنوی رابطے کی ضرورت پوری کرنے کا برترین اور مؤثر ترین وسیلہ
آج تمام انسانی معاشروں پر مشینی نظام کے تسلط کی وجہ سے انسان اور انسانیت سخت دباؤ میں ہیں۔ ایسے نظام میں افرادِ بشر مجبور ہیں کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کی لَے کو مشین کی بوجھل اور روح فرسا تال کے ساتھ یکساں اور ہم آہنگ کریں۔ رحم و مروت، درگزر و ایثار اور بہت سی دوسری اخلاقی اقدار اسی ہم آہنگی میں کم اثر اور بے رنگ ہو جاتی ہیں، اور خاندان اور خاندانی سطح پر محبت آمیز بقائے باہمی کے اخلاق ایسی ہی صورتِ حال میں پامال اور منہدم ہو جاتے ہیں۔ کئی دہائیوں پہلے سے درد مند اور دور اندیش لوگوں نے، حتیٰ صنعتی اور مشینی تمدن کے عین قلب میں بھی، اس خطرے کو محسوس کیا ہے اور اس سے خبردار کیا ہے، اور افسوس کہ اب بھی لاکھوں انسان، خصوصاً نوجوان، جن کے احساسات زیادہ لطیف اور جن کی طبیعت زیادہ جلد متاثر ہونے والی ہے، اس بڑی بلا کے سامنے بدستور بے دفاع اور بے علاج ہیں۔
اسی وجہ سے آج دنیا کے لوگوں کے لیے خداوندِ رحیم و کریم سے معنوی رابطے کی ضرورت ہمیشہ سے زیادہ شدید اور سنجیدہ ہے؛ اور نماز اس ضرورت کو پورا کرنے کا برترین اور مؤثر ترین وسیلہ ہے۔ آج انسانیت خالص، کامل اور پرجوش اسلامی نماز کی ہمیشہ سے زیادہ محتاج ہے۔
کھوکھلے پن، بے مقصدیت اور کمزوری سے نجات
حضور اور توجہ والی نماز، وہ نماز جو یاد اور ذکر سے لبریز ہو، وہ نماز جس میں انسان اپنے خدا سے ہم کلام ہوتا ہے اور اسے اپنا دل سونپ دیتا ہے، وہ نماز جو اسلام کے اعلیٰ ترین معارف مسلسل انسان کو سکھاتی ہے، ایسی نماز انسان کو کھوکھلے پن، بے مقصدیت اور کمزوری سے نجات دیتی ہے، زندگی کے افق کو اس کی نگاہ میں روشن کر دیتی ہے، اسے ہمت، ارادہ اور مقصد عطا کرتی ہے اور اس کے دل کو کج روی، گناہ اور پستی کی طرف میلان سے نجات دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز تمام حالات میں، حتیٰ میدانِ جنگ میں اور زندگی کی سخت ترین آزمائشوں میں بھی، اپنی اوّلیت نہیں کھوتی۔ انسان ہمیشہ نماز کا محتاج ہے، اور خطرے کے میدانوں میں اور زیادہ محتاج۔
انسان کی فساد پذیری میں رکاوٹ
انسان، جو ایک طرف کبھی ہستی کے برترین اور حسین ترین حقائق کا مظہر ہوتا ہے، دوسری طرف کبھی بے مثال برائیوں اور پستیوں کے ظہور کا مقام بھی بن جاتا ہے۔ اگر کسی جگہ اور کسی زمانے میں ہم اسے آگاہی، محبت اور فداکاری، یا دانش مندی، تخلیقی قوت اور بلندی کے میدانوں میں پیش رفت کا مظہر، یا شوق، جوش اور امید کی نشانی دیکھتے ہیں، تو کسی دوسری جگہ اور کسی دوسرے زمانے میں اسے غفلت، کینے اور خود غرضی، یا جہالت، عادت اور جمود، یا سستی، مایوسی اور بدگمانی میں مبتلا پاتے ہیں۔
یہ باصلاحیت عنصر کائنات کی برترین مخلوق سے لے کر ہستی کی پست ترین چیز تک بن سکتا ہے۔ اسے معنوی اور مادی ارتقا و تکامل کے تمام وسائل اور اسباب سے لیس کر کے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت نیک ہے اور نیکی کا راستہ اس کے لیے کھلا ہے۔ عقل اور فیصلہ و انتخاب کی قدرت اس کے دو توانا پر ہیں، اور الٰہی پیغمبر اس کے رہنما، اسے امید دلانے والے اور اس کے مددگار ہیں؛ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی کمزوریوں، ہوسوں اور خود غرضیوں، یا اپنی جہالتوں، غفلتوں اور عادتوں کے آگے ہتھیار ڈال سکتا ہے اور خود کو ان تمام بشارتوں، امیدوں اور معراجوں سے محروم کر سکتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے ”انسان کی فساد پذیری“ کا نام دینا چاہیے، اور یہی وہ چیز ہے جو بشریت کی طویل عمر میں اور افرادِ بشر میں سے ہر ایک کی عمر میں بھی، اس کی سب سے بڑی مصیبت اور اس کے لیے سب سے سنگین خطرہ شمار ہوتی رہی ہے اور ہوتی ہے۔
اس بڑی آفت کی روک تھام اور اس کے علاج کے لیے بھی خدا کے دین نے انسان کو ”ذکر“ سکھایا ہے۔ ذکر یعنی حقیقت کو یاد کرنا، اپنے آپ کو خدا کے روبرو پانا، اس کی طرف کان لگانا اور اسے دل دینا؛ یعنی ان دل مشغولیوں سے، جو انسان کو ہوسوں کے وسوسے کا اسیر بنا دیتی ہیں یا اس کی برتری طلبی، کینہ پروری اور حرص کی خواہش کو تسکین دیتی ہیں، خود کو آزاد کرنا؛ یعنی اسے اس جہنم سے، جو اس نے اپنے لیے فراہم کر رکھی ہے، صفا، انس، بہجت اور امن کی جنت میں لے جانا۔ اور نماز، دل، زبان اور حرکت کے ہم آہنگ امتزاج کے ساتھ، ذکر کا خالص ترین اور کامل ترین نمونہ اور وسیلہ ہے۔
نماز کی نورانیت؛ گناہوں کی تاریکی کو مٹانے والی
انسان طرح طرح کی خطاؤں کی زد میں ہے۔ ہر انسان – بڑے چھوٹے اور بوڑھے جوان کی کوئی قید نہیں – آخر کار کچھ بھول چوک، غلطیاں اور خطائیں کرتا ہے اور اس سے کچھ گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ اگر انسان زندگی کی شاہراہ پر کامیاب ہونا چاہے تو نماز تلافی کرنے والی ہو سکتی ہے۔ قرآن کی آیۂ شریفہ میں ارشاد ہوتا ہے: ”وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ“؛ یعنی دن کے دونوں کناروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں نماز ادا کرو؛ کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا سکتی ہیں۔ نماز میں ایک نورانیت ہے؛ وہ تاریکیوں کو دور کرتی ہے، برائیوں کو مٹاتی ہے اور گناہوں کا اثر دل سے دھو ڈالتی ہے۔ آخر کار ممکن ہے انسان کو کچھ آلودگیاں لگ جائیں اور اس کے ہاتھ پاؤں کسی خطا میں الجھ جائیں۔ اگر آپ نماز کے پابند رہیں تو آپ کی یہ نورانیت باقی رہے گی اور گناہ کو یہ موقع نہیں ملے گا کہ آپ کی جان میں سرایت کر جائے۔
فحشا اور منکر سے روکنے والی
جو انسان باتقویٰ ہے، یعنی اپنی نگرانی کرتا ہے اور متذکر رہتا ہے، وہ اِس اُس کے لیے شر، ظلم، فساد، سرکشی اور برائی کا سرچشمہ نہیں بنتا۔ وہ ذکرِ الٰہی مسلسل اسے روکتا رہتا ہے؛ مسلسل اسے باز رکھتا ہے: ”الصّلوه تنهى“۔ ”تنهى“ یعنی روکتی ہے، یہ نہیں کہ انسان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیتی ہے، جبلتوں کو ناکارہ کر دیتی ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ”الصلوه تنهى عن الفحشاء والمنكر“کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے نماز پڑھ لی تو پھر فحشا و منکر ختم ہو جائیں گے؛ نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم نماز پڑھتے ہو تو تمہارا وہ اندرونی واعظ، جو نماز سے جان پکڑتا ہے، مسلسل تم سے فحشا و منکر کی برائی بیان کرتا رہتا ہے؛ اور کہنا، دہرانا اور دل میں اتارنا فطری طور پر اثر رکھتا ہے اور دل کو خاضع و خاشع بنا دیتا ہے۔ اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ نماز کو دہرایا جانا چاہیے۔ روزہ سال میں ایک بار؛ حج عمر میں ایک بار؛ نماز ہر روز کئی بار دہرائی جانی چاہیے۔ نماز کی اہمیت یہاں ہے۔
انسانوں کا دل جب نماز سے مانوس ہو جائے اور وہ نماز کے ذریعے خدائے متعال سے مانوس اور آشنا ہو جائیں، تو فطری طور پر گناہ ان سے دور ہو جاتے ہیں؛ ان کے دل گناہ کے بارے میں حساس ہو جاتے ہیں اور تقویٰ کی وہ حالت، جو شرعِ مقدس میں دین داری کی اساس ہے، رفتہ رفتہ انسان میں پیدا ہو جاتی ہے۔ نماز کا معاملہ یہ ہے۔
شفا بخش دوا
انسان اپنی ذاتی زندگی میں کبھی رنج و محن، سختیوں اور مصیبتوں کے نتیجے میں، اور اپنی اجتماعی زندگی میں کبھی انقلاب آفریں واقعات، جیسے جہاد یا انفاق یا ضرورت مندوں کی مدد کی طرف عمومی تحریک کے ذریعے، ذکر کے عامل کے قریب ہو جاتا ہے، اور کبھی ہوس آلود مشغولیتوں اور سرمستی، اشرافیت اور عیش پرستی میں ڈوب جانے کی وجہ سے اس سے دور جا پڑتا ہے۔ وہ عنصر جو ان تمام حالات میں اسے ”ذکر“ کی جنت کے قریب یا زیادہ قریب کر سکتا ہے، نماز ہے۔
نماز روحانی آمادگی کی حالتوں میں انسان کو زیادہ عروج، حال اور حضور عطا کرتی ہے، اور غفلت اور عدم آمادگی کی حالتوں میں اس کے کان میں ہوشیار باش کی گھنٹی بجاتی ہے اور اسے اس نورانی وادی کے قریب کر دیتی ہے۔ لہٰذا نماز کسی بھی حال میں ترک نہیں ہونی چاہیے۔ عین سختی اور مصیبت میں، میدانِ جہاد کی گہما گہمی میں، فراغت اور آسائش کے وقت، اور حتیٰ اس کیچڑ آلود ماحول کے درمیان بھی جو انسان نے ہوسوں، کینوں، شہوتوں اور خود غرضیوں سے اپنے اردگرد پیدا کر رکھا ہے، نماز ایک مقوی اور شفا بخش شربت ہے؛ اسے دل و جان سے پینا چاہیے اور ہم جس مقام پر بھی ہوں، وہاں سے ایک قدم یا ایک منزل جنتِ رضوان کے قریب ہو جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ ”حَیَّ علی الجهاد“ [جہاد کی طرف آؤ] کہا گیا، نہ ”حَیَّ علی الصوم“ [روزے کی طرف آؤ] اور نہ ”حَیَّ علی الإنفاق“ [انفاق کی طرف آؤ]، لیکن ہر روز بارہا یہ صدا بلند کی گئی ہے: ”حیّ علی الصّلاة“[نماز کی طرف آؤ]۔
تکبر کا علاج
ان مذموم خصلتوں میں، جو روح کی سلامتی اور زندگی کے سکون کو خطرے اور رکاوٹ سے دوچار کرتی ہیں، تکبر سب سے زیادہ آفت خیز خصلتوں میں سے ہے۔ خود کو برتر سمجھنا اور اس سے پیدا ہونے والی سرکشی کتنی ہی حقیقتوں کو ناشناختہ اور فضیلت کی کتنی ہی راہوں کو ناپیمودہ چھوڑ دیتی ہے، اور کتنے ہی ناحق کینے اور دشمنیاں اور کتنی ہی برائیاں اور ناہمواریاں پیدا کرتی ہے۔ ہاں، تکبر حقیقت کا پردہ، فضیلت کی راہ کا کانٹا، صفا و صداقت کا دشمن اور دشمنی و شرارت کا محرک ہے۔ افرادِ بشر اور انسانی معاشروں نے اپنی عمر کے آغاز سے اب تک قوموں اور افراد کے کبر و خود پسندی اور اس سے پیدا ہونے والی سرکشیوں اور تعصبات کی وجہ سے بے شمار نقصانات برداشت کیے ہیں اور کر رہے ہیں۔
اسلامی عبادات، اور سب سے بڑھ کر نماز، انسانوں کی جان سے اس آفت کو مٹانے کے لیے مؤثر اور کارآمد علاجوں میں سے ہیں۔ نماز جب حال، حضور اور آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو انسان کی روح کو اس کی ذاتی احتیاج سے آشنا کرتی ہے، اور اس کے باطن میں کبر، تفاخر اور موہوم جبروت کی جڑ کو جلا ڈالتی ہے۔ پروردگار کے سامنے خشوع اس کے دل پر بصیرت کا نور ڈالتا ہے اور خود کو بڑا سمجھنے کے وہم آلود سائے کو اس سے مٹا دیتا ہے: ”فرض الله الایمان تطهیراً من الشرك والصلاة تنزیهاً من الكبر...“[اللہ نے ایمان کو شرک سے پاک کرنے کے لیے اور نماز کو تکبر سے منزہ کرنے کے لیے فرض کیا...]۔
...نہج البلاغہ میں یوں آیا ہے: ”و عن ذلك ما حرس الله عباده المؤمنین بالصلوات و الزکوات و مجاهدة الصّیام فی الایّام المفروضات، تسکیناً لاطرافهم و تخشیعاً لابصارهم وتذلیلاً لنفوسهم وتخفیضاً لقلوبهم واذهاباً للخیلاء عنهم“؛ یعنی خداوند مومن بندوں کو نمازوں، زکاتوں اور دشوار روزوں کے ذریعے کبر و خود بینی سے محفوظ رکھتا اور ان کی نگہبانی کرتا ہے؛ ان کے جسموں کو سکون بخشتا ہے، ان کی آنکھوں کو فروتنی دیتا ہے، ان کے نفسوں کو رام کرتا ہے، ان کے دلوں کو انکساری سکھاتا ہے، اور خود پسندی کو ان سے دور کرتا ہے۔
ب – اجتماعی اثرات
نماز؛ اسلامی نظام کے ڈھانچے کو شکل دینے والی
نماز کا ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ نماز کا اجتماعی پہلو یہ ہے کہ ایک ایک مسلمان نماز کے ذریعے ایک واحد مرکز سے رابطے میں آتا ہے۔ نماز کے وقت، ایک ہی لمحے میں، تمام مسلمان ان تمام مقامات پر جہاں تک دنیائے اسلام پھیلی ہوئی ہے، اپنے دل کو ایک واحد مرکز سے جوڑتے ہیں؛ تمام دلوں کا ایک واحد مرکز سے یہ اتصال ایک اجتماعی مسئلہ ہے، ایک نظام ساز مسئلہ ہے، اسلامی نظام کے ڈھانچے کو متعین کرنے والا اور اسے شکل دینے والا ہے۔
نماز کے ذریعے دینی معاشرے کا قیام
یہ جو ہم سے کہا گیا ہے کہ ”الصلوة عمود الدّین“[نماز دین کا ستون ہے]، ہمیں اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ خیمۂ دین نماز سے قائم ہے؛ ایک فرد کی دین داری اور تدین میں بھی، ایک دینی معاشرے کے قیام میں بھی، اور ایک ملک اور ایک سماج کی دین داری میں بھی۔ اگر ہم اس وسیع و عریض دائرے میں نماز کی تاثیر کی کیفیت کو صحیح طور پر نہ پہچان سکیں تو یہ ہماری کوتاہ نظری ہے؛ ورنہ وہ ہستی جس نے فرمایا ہے: ”الصلوة عمود الدّین“، اور قرآن کی آیاتِ کریمہ جو نماز کی اہمیت کو بیان کرتی ہیں، خوب جانتے ہیں کہ یہ نظامِ کار کیسا ہے اور یہ کردار کس طرح کا ہے۔
خاشعانہ نماز کے پرتو میں نورانی معاشرہ
نماز جب توجہ اور حضور کے ساتھ ہو تو نہ صرف نمازی کے دل و جان کو بلکہ اس کے اردگرد کی فضا کو بھی لطیف، نورانی اور معطر بنا دیتی ہے اور گھر، خاندان، کام کی جگہ، دوستوں کی محفل، شہریوں کے اجتماعات اور زندگی کی تمام فضاؤں پر اپنی کرنیں بکھیرتی ہے۔ متوجہ، خاشع اور ذاکر نمازی جتنے زیادہ ہوں گے، خود غرضیوں، خود سریوں، بدگمانیوں، حرص و آز، جارحیتوں، حسد اور بدخواہیوں کی تاریکیاں اتنی ہی کم ہوں گی اور زندگی کی پیشانی پر فلاح کا نور اتنا ہی زیادہ چمکے گا۔
انسان کی تمام تلخ کامیوں کی جڑ خدا سے غفلت اور ذاتی مفادات تک محدود ہو جانے میں ہے۔ نماز انسان کو ان تاریک حصاروں سے نجات دیتی ہے اور اس کی شہوت اور غضب کو متعالی حقیقت اور عمومی بھلائی کی طرف موڑ دیتی ہے۔ خاشعانہ اور حال و حضور سے لبریز نماز، پہلے نمازی کے دل و جان میں اور پھر رفتہ رفتہ زندگی کے ماحول میں ایک حقیقی جنت خلق کرتی ہے اور انسان کو صلاح و فلاح کا تحفہ دیتی ہے۔ اسی لیے تمام الٰہی ادیان میں نماز ادا کرنا دین داری کا سب سے بنیادی ادب اور ایمان کی سب سے واضح اور سب سے عمومی نشانی ہے؛ اور اسلام کی نماز تمام نمازوں میں سب سے کامل اور سب سے خوبصورت نماز ہے۔
نماز؛ فرد اور معاشرے کی اصلاح کا کلیدی ترین عنصر
اقامۂ نماز اور ترویجِ نماز کے کام کی اہمیت خود نماز کی اہمیت سے پیدا ہوتی ہے۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کی شریعتِ مقدسہ میں نماز کے بارے میں – چاہے قرآن میں ہو، چاہے نبیِ مکرم کے کلمات میں، چاہے معصومین کے فرامین میں – اس قدر ترغیب، تشویق اور اہتمام دکھایا گیا ہے، تو ہم یہ دریافت کرتے ہیں کہ یہ نماز انسان کی جسمانی، روحانی، انفرادی اور اجتماعی بیماریوں کا علاج کرنے والی دواؤں کے مجموعے میں وہ اصل عنصر یا اصلی ترین عناصر میں سے ایک ہے۔ تمام شرعی واجبات اور تمام محرمات سے اجتناب، پروردگار کی طرف سے تجویز کردہ دوا کا ایک ایسا مجموعہ تشکیل دیتے ہیں جو روحانی بنیہ کی تقویت اور انسان کے دنیوی اور اخروی امور کی اصلاح – معاشرے کی اصلاح، فرد کی اصلاح – کے لیے ہے؛ البتہ اس مجموعے میں کچھ عناصر کلیدی ہیں، اور شاید یہ کہا جا سکے کہ نماز ان عناصر میں سب سے کلیدی عنصر ہے۔ ”الّذین ان مکّناهم فی الارض اقاموا الصّلوة“۔ مومنین، راہِ خدا کے مجاہدین، الٰہی معارف کے استحکام کی راہ میں ایثار کرنے والے ایسے ہیں کہ جب ”ان مکّناهم فی الارض“، جب ہم نے انہیں زمین میں اقتدار دیا، طاقت ان کے سپرد کی، تو انہیں بہت سے کام انجام دینے ہوتے ہیں: عدل کا قیام، فلاں اور فلاں چیز کو وجود میں لانا، لیکن پہلی چیز جو موجود ہے: ”اقاموا الصّلوة“؛ وہ نماز قائم کرتے ہیں۔
نماز کی ترویج، سماجی برائیوں میں کمی کا باعث
سب جان لیں کہ سماجی برائیوں کو کم کرنے کے مؤثر ترین راستوں میں سے ایک نماز کی ترویج ہے۔ اس بات کے لیے کمرِ ہمت باندھیے کہ ملک کے جوانوں اور نوعمروں میں سے ایک فرد بھی نماز میں سہل انگاری نہ کرے۔ یہ ہمارے عوام اور ہمارے معاشرے کی معنوی اور روحانی سلامتی کے بہترین راستوں میں سے ایک ہے۔نماز جب خشوع اور حضور کے ساتھ ادا کی جائے تو معاشرے کو قول و عمل میں صلاح و درستی کی طرف لے جاتی ہے اور اسے بلندی عطا کرتی ہے۔ ہماری مشکلات اور آلودگیوں کا ایک اہم حصہ اس خبردار کرنے والی حقیقت پر توجہ نہ دینے کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے تمام مؤثر طریقوں سے نماز کی ترویج ان بڑے فرائض میں شمار ہوتی ہے جن کا ہم سب کو اہتمام کرنا چاہیے۔
معاشرے کا امن؛ اقامۂ نماز کا ثمرہ
اگر ہم نے نماز پڑھی تو انسان کے باطن سے، انسان کے دل سے لے کر معاشرے کی سطح تک اور معاشرے پر حکمرانی کی سطح تک، یہ معاشرہ جتنا بھی بڑا ہو، نماز کی برکت سے امان پاتا ہے، امن پاتا ہے۔ انسان کا دل امن پاتا ہے، انسان کا جسم امن پاتا ہے، انسان کا معاشرہ امن پاتا ہے۔ نماز کی خاصیت یہ ہے؛ معاشرے میں اقامۂ صلاۃ یہ ہے۔
سماجی نظم و ضبط اور انتظام کا اہم عامل
چونکہ نماز، اولاً، معاشرے کے افراد کو اخلاقی اور معنوی سلامتی اور بلندی عطا کرتی ہے، اور ثانیاً، اس لیے کہ اپنی مخصوص شکل اور مضمون کے ذریعے نمازی کو نظم و ضبط کی طرف لے جاتی ہے اور بے مقصدیت اور لاابالی پن سے نجات دیتی ہے، اس لیے بجا طور پر اسے سماجی نظم و ضبط اور انتظام کے اہم عوامل میں سے ایک سمجھا جانا چاہیے۔ اگر نماز حضور کے ساتھ، شوق سے اور وقتِ فضیلت میں کسی قوم کے درمیان رواج پا جائے تو یہ اس قوم کے یقینی ثمرات ہوں گے؛ ظاہر ہے کہ کسالت کے ساتھ، بغیر حضور کے یا دکھاوے کی نماز میں ان فوائد میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا۔
محاذِ فساد کے مقابلے میں لازوال طاقت
ہمارے عوام، ہمارے معاشرے اور خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کو، جنہوں نے اس وقت ایک بھاری امانت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے، نماز کو ایک لازوال طاقت کا سرچشمہ سمجھنا چاہیے اور فساد، ناانصافی اور کج روی کے اس محاذ کے مقابلے میں، جو آج انسانیت کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، نماز اور یادِ خدا سے قوت حاصل کرنی چاہیے۔ جدوجہد کا جو میدان آج ہمارے سامنے ہے، وہ ہمیں ذکرِ خدا اور اس پر امید و اعتماد کے مستحکم سہارے کا ہمیشہ سے زیادہ اور ہر چیز سے پہلے محتاج بناتا ہے؛ اور نماز وہ ابلتا ہوا چشمہ ہے جو ہمیں یہ امید، اعتماد اور معنوی طاقت عطا کرتا ہے۔
قرآن، اسلام اور نماز کے سائے میں ملک کی عظمت و عزت
تمام خاندان اور تمام لوگ، خصوصاً نوجوان، نماز، مسجد، عبادت اور قرآنی محفلوں کو اہمیت دیں۔ آج اس ملک نے جو کچھ عظمت، عزت اور طاقت حاصل کی ہے، وہ قرآن، اسلام، نماز، عبادت اور ذکرِ خدا کے سائے میں ہے۔ تعلیم اور کام پر بھی توجہ دی جانی چاہیے اور دین داری پر بھی؛ کیونکہ دین داری ان سب کی پشت پناہ ہے۔ آپ کو نماز، مسجد، عبادت، دینی محفلوں اور قرآنی محفلوں سے انس پیدا کرنا چاہیے۔
تمام مجاہدتوں اور ایثار کا معنوی سہارا
یہ نماز ہی ہے جو ایثار، درگزر، توکل اور تعبد کے وہ ضروری عناصر، جو جہاد، نہی عن المنکر اور زکات جیسے پُرخطر اور دشوار واجبات کا لازمی سہارا ہیں، انسان کی روح میں پیدا کرتی ہے اور اسے دلیری کے ساتھ ان میدانوں کی طرف روانہ کرتی ہے۔ جب دشمن کے حملے کی وجہ سے جہاد کا فریضہ اہمیت اختیار کر لیتا ہے، یا عوام کے کچھ طبقات کی زندگی کی دشواری کے باعث زکات اور انفاق کا فریضہ سب کو مخاطب کرتا ہے، یا ثقافت اور اخلاق کے میدان میں دشمن کی کوششوں کے تقاضے کے تحت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سب پر واجب ہو جاتا ہے، ان تمام حالات میں نماز نہ صرف ”خیرالعمل“ [بہترین عمل] ہونے کی شان سے نہیں گرتی، بلکہ تمام مجاہدتوں، ایثار اور خطرات مول لینے کے روحانی اور معنوی سہارے کی حیثیت سے اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔
معاشرے کی حیاتِ طیّبہ، اقامۂ نماز کے تحقق پر منحصر
نماز امت کے تمام افراد کے لیے کھلا ہوا ایک دروازہ ہے جس سے خداوند کی ہدایت اور رحمت تک پہنچا جا سکتا ہے اور زندگی کو صحیح سمت میں اور خیر و برکت سے لبریز بنایا جا سکتا ہے۔ ہر فرد کی معنوی سلامتی نماز سے وابستہ ہے اور ہر معاشرے کا صراطِ مستقیم اور حیاتِ طیّبہ بھی صرف اس میں نماز قائم کرنے ہی سے متحقق ہوتی ہے۔ کتاب و سنت میں اقامۂ نماز پر اس قدر تاکید کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ رحمت کا یہ دروازہ مسلمان فرد اور معاشرے کے لیے کھلا رہے اور اس سے بہرہ مند ہونے کا موقع میسر آئے۔
عوام کے معنوی رجحانات اور نماز کی پابندی کی برکت سے انقلابِ اسلامی کا ثمر آور ہونا
انقلاب سے پہلے، ایک زمانے میں ایک مشہور عرب ادیب ایران آئے تھے۔ ہماری آپس کی ایک ملاقات میں انہوں نے مجھ سے کہا: ”میں نے تمام اسلامی ممالک کا سفر کیا ہے؛ لیکن کسی ملک میں یہ نہیں دیکھا کہ جب لوگ ٹرین میں سوار ہو کر سفر پر جا رہے ہوں تو نماز کے وقت اچانک ٹرین رک جائے اور سب نماز ادا کرنے کے لیے اتر جائیں۔“؛ وہ کہہ رہے تھے: ”میں پہلی بار ایران میں ایسی چیز کا مشاہدہ کر رہا ہوں اور کسی اور جگہ میں نے اس کی مثال نہیں دیکھی۔“۔
جی ہاں؛ یہی معنوی اور دینی رجحان تھا جو اگلا نقطۂ قوت وجود میں لایا، اور وہ تھا اس قوم کی زندگی کے ایک حساس مرحلے میں پوری تاریخ کی سب سے بڑی قومی آزمائشوں اور دلیرانہ قیاموں میں سے ایک کو انجام دینا، یعنی ہمارا عظیم اسلامی انقلاب، اور اس انقلاب کے ساتھ ڈٹے رہنا اور اس انقلاب کی بنیاد پر ایک حکومت کی تشکیل، اور وہی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔ یہ سب اسی دین پر ایمان کی برکات میں سے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ جو لوگ آزادی خواہی، جدوجہد اور انقلابیت کا دعویٰ کرتے تھے لیکن ان کے وجود کی تہہ دین سے بیگانہ تھی، وہ کس طرح بیچ راستے میں ناکارہ اور زمین گیر ہو گئے اور آپ لوگوں کے بقول ”ٹھپ“ ہو گئے اور آگے نہ بڑھ سکے؟! لیکن ملتِ ایران بدستور آگے بڑھتی رہی، آگے بڑھتی رہی، اور اب بھی ایمان کی برکت سے آگے بڑھ رہی ہے۔