خلوت انس

باب 3

آداب نماز

26 منٹ کا مطالعہ

۱- نماز میں حضورِ قلب

نماز میں جو چیز اہم ہے اور جس پر زور دینا چاہیے، وہ اصلِ نماز کی ترویج کے بعد – کہ سب کو نمازی بنانا چاہیے اور سب نمازی بن جائیں – نماز میں توجہ ہے؛ وہی چیز جسے ”حضورِ قلب“ کہا جاتا ہے۔

۱-۱- نماز میں حضورِ قلب کی اہمیت

حضورِ قلب کے ساتھ نماز، پوری کائنات سے ہم آہنگ

[حضورِ قلب کے ساتھ نماز] نمازی کو پوری کائنات کے ساتھ ہم آہنگ اور ہم سمت بنا دیتی ہے اور عالمِ طبیعت اور تاریخ میں الٰہی سنتوں کے تحقق کا راستہ کھول دیتی ہے؛ کیونکہ اسلامی نقطۂ نگاہ میں پوری کائنات حضرتِ حق کی تسبیح اور عبودیت میں مشغول ہے۔ ”يسبّح له ما فى السّموات وما فى الارض“۔

اذکار اور معانیِ نماز پر توجہ کے ذریعے روح کی تربیت اور تقویت

انسان کا جسم ورزش کے بغیر کمزور، دبلا اور بے طاقت رہے گا۔ آپ جو کوئی بھی ہوں، آپ کی جسمانی ساخت کتنی ہی مضبوط اور توانا کیوں نہ ہو، اگر آپ نے ورزش نہ کی اور بس کھایا اور سوئے، تو بدن کمزور ہی رہتا ہے؛ اس میں کوئی شک نہیں۔ جس طرح اگر آپ ورزش نہ کریں تو آپ کا بدن وہ ضروری نشوونما حاصل نہیں کرتا، اسی طرح اس کی کچھ خوبصورتیاں بھی ہیں جنہیں ورزش آشکار کرے گی؛ ورزش کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ آپ کی روح بھی بعینہٖ ایسی ہی ہے۔ ورزش کے بغیر، مشق اور ریاضت کے بغیر، ممکن نہیں کہ آپ طاقتور بن جائیں۔

کتنے ہی ایسے انسان ہیں جن کے جسم طاقتور اور خوبصورت ہیں، لیکن روحیں لاغر، بدصورت، ناتواں اور کمزور ہیں۔ یہ کسی کام کا نہیں۔ تمام عبادات اسی لیے ہیں کہ ہم ورزش کریں، تربیت پائیں اور آگے بڑھیں۔ البتہ عبادات کو پہچاننا چاہیے۔ عبادات کا بھی ایک جسم ہے اور ایک روح۔ عبادات کا جسم تنہا کافی نہیں ہے۔ اگر انسان نماز پڑھے، لیکن نماز کی حالت میں خود ذکر کی طرف اس کی توجہ نہ ہو، اسے یہ دھیان نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے اور کس سے بات کر رہا ہے، نماز کے مضامین کو سراسر غفلت کے عالم میں ادا کر دے، تو یہ نماز ایک بے فائدہ نماز ہے۔

نماز میں پروردگار کو دل دینا

کبھی انسان نماز پڑھتا ہے روزمرہ کی باقی عادتوں کی طرح؛ ہم مسواک کرتے ہیں، فرض کیجیے، ورزش کرتے ہیں، اسی طرح وقت پر نماز بھی پڑھ لیتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں، بلکہ انسان اس احساس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے کہ وہ پروردگار کی بارگاہ میں حاضری دینا چاہتا ہے؛ یہ ایک دوسری طرح کی چیز ہے۔ ہم ہمیشہ پروردگار کے حضور میں ہیں؛ سوئے ہوئے ہوں، جاگتے ہوں، غافل ہوں، ذاکر ہوں؛ لیکن ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ آپ وضو کرتے ہیں، طہارت کرتے ہیں، خود کو تیار کرتے ہیں، جسم کی طہارت کے ساتھ، لباس کی طہارت کے ساتھ، وضو اور غسل سے حاصل ہونے والی معنوی طہارت کے ساتھ پروردگارِ عالم کی خدمت میں جاتے ہیں۔ ہمیں نماز میں ایسا ہی احساس ہونا چاہیے؛ ہم پروردگار کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے عرض کیا؛ اسی کیفیت کے ساتھ نماز میں داخل ہونا چاہیے؛ اپنے آپ کو خدا کے سامنے محسوس کرنا چاہیے؛ نماز میں کوئی مخاطب ہونا چاہیے؛ ورنہ محض یہ کہ ہم کچھ لہریں، جو الفاظ اور حروف سے پیدا ہوتی ہیں، فضا میں پھیلا دیں، یہ وہ چیز نہیں جو ہم سے چاہی گئی ہے۔ یوں ہی کہا جا سکتا ہے: ”الحمد لله ربّ العالمین. الرّحمن الرّحیم. مالک یوم الدّین...“[سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے، رحمٰن و رحیم ہے، روزِ جزا کا مالک ہے...] اور اس کی لہریں پھیلا دیں۔ اسی کو اچھی قرائت کے ساتھ بھی پڑھا جا سکتا ہے، لیکن بے توجہی کے ساتھ، تو یہ پھر بھی وہی ہوا میں صوتی لہریں پھیلانا ہے۔ یہ وہ چیز نہیں جو ہم سے چاہی گئی ہے۔ ہم سے یہ چاہا گیا ہے کہ نماز کی حالت میں اپنے دل کو پروردگار کی بارگاہ میں لے جائیں؛ دل سے بات کریں، دل کے ساتھ بات کریں۔ یہ باتیں اہم ہیں۔ نماز کی ترویج کے سلسلے میں، اس نماز میں جو ہم خود پڑھتے ہیں، اس نماز میں جو ہم دوسروں کو سکھاتے ہیں، ہمیں روحِ نماز کے اس نکتے پر توجہ دینی چاہیے۔

توجہ کے ساتھ نماز؛ اکسیرِ اعظم

اہلِ معنی میں سے ایک صاحب نے کہا تھا کہ میں نے روزانہ کئی ہزار مرتبہ فلاں ذکر اپنے اس سوئے ہوئے غافل دل پر پڑھا۔ کتنی اچھی تعبیر ہے۔ نماز وہی ذکر ہے، وہی آبِ حیات ہے جو انسان اپنے دل کو عطا کرتا ہے؛ توجہ کے ساتھ نماز؛ معنی کی طرف توجہ، اس بات کی طرف توجہ کہ ہم خدا کے سامنے ہیں۔ نماز اسی طرح پڑھیے۔ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو یاد کیجیے کہ آپ خداوندِ متعال کے سامنے کھڑے ہیں اور اس سے بات کر رہے ہیں۔ پوری نماز میں کوشش کیجیے کہ یہ کیفیت برقرار رہے؛ تب یہ نماز اثر کرتی ہے اور انسان کے دل کو اکسیر کی طرح بدل دیتی ہے۔ اکسیر ایک کیمیائی مادہ ہے جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ تانبے کو سونا بنا دیتا ہے۔ ہمارا دل اگر تانبے کا بھی ہو، تو ذکر کی اکسیر اسے سونے میں بدل دیتی ہے۔ یہ بہت اہم ہے۔

غفلت کے ساتھ نماز؛ قساوتِ قلب کا سبب

خدا کی رحمت ہو مرحوم شیخ محمد بہاری پر، جو اپنی ایک تحریر میں کہتے ہیں کہ دعا اور ذکر اور شاید نماز بھی، جب بے توجہی کے ساتھ دہرائی جائے، تو قساوت لاتی ہے! ہم نماز پڑھتے ہیں، ایسی نماز جو قساوت کا باعث ہو؛ کیوں؟ اس لیے کہ نماز کی حالت میں ہمیں حضورِ قلب حاصل نہیں ہوتا، توجہ نہیں ہوتی۔ پس یہ نماز یا تو توجہ کے ساتھ ہے، جو رقت اور قرب اور لطافت اور صفا کا باعث ہے؛ یا بے توجہ نماز ہے، جو پھر ان کے قول کے مطابق قساوتِ قلب کا باعث ہے۔

بے ذکر و حضور نماز؛ ایک بے روح ڈھانچہ

نماز محض زبان پر کلمات جاری کرنا اور کچھ معین حرکات بجا لانا نہیں ہے۔ وہ سارا فیض و برکت ان صوتی لہروں کے پیدا کرنے اور ان جسمانی اعمال پر مترتب نہیں ہوتا جن کے اس پورے ڈھانچے میں ذکر و توجہ کی روح پھونکی نہ گئی ہو؛ اگرچہ اس سے کم از کم تکلیف ساقط ہو جاتی ہے۔ نماز کی روح یادِ خدا، خشوع اور اس کے سامنے حضور ہے، اور یہ کلمات و اعمال جو الٰہی تعلیم کے ذریعے مکلّف پر واجب ہوئے ہیں، اس روح کے لیے بہترین قالب اور اس منزلِ مقصود تک پہنچنے کا قریب ترین راستہ ہیں۔ بے ذکر و حضور نماز ایک بے روح ڈھانچہ ہے کہ اگرچہ اس پر نماز کے نام کا اطلاق مجازی نہیں ہے، لیکن اس سے نماز کے اثر اور خاصیت کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔ دینی متون میں اس حقیقت کا ذکر ”قبولیتِ نماز“ کے عنوان سے ہوا ہے، اور یوں آیا ہے کہ جو نماز تم ادا کرتے ہو، اس میں سے صرف وہی حصہ قبول ہے جو حضور و توجہ کے ساتھ بجا لایا گیا ہو، اور بس۔

بے توجہ نماز کا کم اثر ہونا

نماز کا ایک قالب ہے اور ایک مضمون؛ ایک جسم ہے اور ایک روح۔ ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ نماز کا جسم نماز کی روح سے خالی نہ رہ جائے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ نماز کے بے روح جسم کا کوئی اثر نہیں؛ کیوں نہیں، آخرکار اس کا تھوڑا سا اثر ہوتا ہے؛ لیکن وہ نماز جس پر اسلام اور قرآن اور شریعت اور پیغمبر اور ائمہ (علیہم السلام) نے اس قدر تاکید کی ہے، وہ نماز ہے جس کا جسم اور روح دونوں کامل ہوں۔ یہ جسم بھی اسی روح کے مطابق فراہم کیا گیا ہے؛ اس میں قرائت ہے، رکوع ہے، سجود ہے، خاک پر گر جانا ہے، ہاتھ اٹھانا ہے، بلند آواز سے بولنا ہے، آہستہ بولنا ہے۔ یہ تنوع ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ہے جنہیں نماز کے ذریعے پورا ہونا چاہیے، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک راز رکھتی ہے، اور ان سب کا مجموعہ نماز کا قالب اور شکل وجود میں لاتا ہے۔ یہ شکل بہت اہم ہے، لیکن اس نماز کی روح توجہ ہے؛ توجہ۔ ہمیں معلوم ہو کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ بے توجہ نماز، جیسا کہ میں نے عرض کیا، کم اثر رکھتی ہے۔ آپ کئی قیراط کے ایک بہت قیمتی ہیرے کے ٹکڑے سے دو طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں؛ ایک طریقہ یہ ہے کہ اسے ہیرے کی طرح، ایک قیمتی پتھر کی طرح استعمال کریں، اور دوسرا یہ ہے کہ اسے ترازو کے باٹ کے طور پر کام میں لائیں اور چند گرام کے باٹ کی جگہ ترازو میں رکھ دیں اور اس کے مقابل مثلاً کالی مرچ یا ہلدی تولیں! یہ بھی ہیرے سے فائدہ اٹھانا ہے؛ لیکن کیسا فائدہ اٹھانا؟! یہ تو ہیرے کو ضائع کرنے کے مانند ہے۔ البتہ پھر بھی یہ ہیرے کو توڑ دینے سے مختلف ہے؛ پھر بھی اتنا ضرور ہے کہ توڑنا اس سے بدتر ہے؛ لیکن ہیرے سے فائدہ اٹھانا یہ بھی نہیں کہ آدمی اسے ترازو کا باٹ بنا دے اور اس سے کالی مرچ اور ہلدی تولے۔ ہمیں نماز کے ساتھ اس ہیرے جیسا سلوک نہیں کرنا چاہیے جسے ہم نے ترازو کا باٹ بنا دیا ہو۔ نماز بہت قیمتی ہے۔

نماز میں سستی، بے توجہی اور خدا کو مخاطب نہ بنانے کا نتیجہ

اگر خدا مجھے اور آپ کو توفیق دے کہ ہم ایسی نماز پڑھیں جو توجہ کے ساتھ ہو، تو ہم دیکھیں گے کہ انسان نماز کی طرف توجہ کی حالت میں نماز سے سیر نہیں ہوتا۔ انسان جب نماز کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے تو اسے ایسی لذت حاصل ہوتی ہے کہ مادی لذتوں میں سے کسی میں بھی یہ لذت موجود نہیں۔ یہ توجہ کا اثر ہے۔ نماز سے بے توجہی، نماز کی حالت میں سستی، منافقین کی خصوصیات میں سے ہے؛ یہ نہیں کہ اب جو کوئی بھی نماز کی حالت میں سستی محسوس کرے، وہ منافق ہے؛ نہیں! خدا قرآن میں منافقین کا تعارف کراتا ہے اور فرماتا ہے کہ انہیں اس سے پہچانو! پیغمبر کے زمانے میں کچھ منافقین تھے جو اِس اُس کی خاطر نماز پڑھتے تھے اور دل میں نماز پر کوئی اعتقاد نہیں رکھتے تھے۔ ”واذا قاموا الی الصّلوة قاموا کسالی یرائون النّاس“۔ جی ہاں، جب کسی کا کوئی مخاطب نہ ہو، وہ خدا سے بات نہ کر رہا ہو، تو وہ تھک جاتا ہے اور اسے یہ ایک لمبا کام معلوم ہوتا ہے؛ چار رکعت نماز، جس میں چار منٹ، پانچ منٹ لگتے ہیں، اسے ایک طویل وقت معلوم ہوتی ہے؛ حالانکہ چار منٹ آخر ہوتے ہی کتنے ہیں؟ انسان اگر اس حالت میں خدا سے ہم کلام ہو، تو پھر دیکھے گا کہ یہ بجلی کی طرح گزر گئی؛ اسے حسرت ہوتی ہے، افسوس ہوتا ہے اور اس کا دل چاہتا ہے کہ یہ اور طویل ہو جائے۔کوشش کیجیے کہ نماز کو اپنے لیے اکتا دینے والی حالت سے نکال دیں؛ کیونکہ اگر ہم نماز کو یوں ہی رٹے رٹائے اور بقولِ معروف طوطے کی طرح دہرائے جانے والے کام کی حالت سے نہ نکالیں، تو یہ ایک اکتا دینے والی چیز بن جاتی ہے؛ یعنی آدمی کو اٹھنا ہے، وضو کرنا ہے اور جا کر ایک ایسا کام انجام دینا ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ کیا ہے۔ لیکن اگر آپ ان کلمات کے معانی سمجھ لیں، تو پھر دیکھیں گے کہ نماز ہرگز اکتا دینے والی نہیں؛ بلکہ شوق دلانے والی ہے اور انسان نماز کی طرف لپکتا ہے۔

۱-۲- نماز میں حضورِ قلب حاصل کرنے کے طریقے

نماز میں یکسوئی کی کیفیت پیدا کرنے کے لیے مشق

حضورِ قلب اور توجہ ایسا کام ہے جس کے لیے مشق کی ضرورت ہے۔ جن لوگوں نے یہ کام کیے ہیں اور انہیں جانتے ہیں، وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ انسان کو چاہیے کہ نماز کی حالت میں اپنے آپ کو ایک عالی شان اور عالی مقام مخاطب کے حضور میں محسوس کرے جو ہستی کا خالق ہے اور انسان کے پورے وجود کا مالک ہے۔ نماز کے جتنے حصے میں وہ یہ کیفیت برقرار رکھ سکا، روایات کی تعبیر کے مطابق، وہ نماز مقبول نماز ہے اور وہ خاصیت اور اثر عطا کرے گی۔ اور نماز کے دیگر آثار – کہ نماز کے آثار کو چند جملوں یا چند مختصر فقروں میں سمیٹا نہیں جا سکتا – اسی پر مترتب ہوتے ہیں۔اگر آپ نماز کا ترجمہ جانتے ہیں تو کوشش کیجیے کہ نماز کی حالت میں یکسوئی پیدا کریں؛ یہ یکسوئی بہت اہم چیز ہے؛ تاکہ جو کچھ آپ زبان پر جاری کرتے ہیں ”حتّى تَعلَموا ما تَقولون“؛ آپ سمجھیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ قرآن کی آیت ہی تو ہے؛ کہتی ہے کہ نشے کی حالت میں نماز میں مشغول نہ ہو – ”لا تقربوا الصَّلاةَ وأنتم سكارى حتّى تَعلَموا ما تَقولون“– یہاں تک کہ سمجھ لو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ آپ خدا سے بات کرنے میں مشغول ہیں؛ اس کے لیے یکسوئی چاہیے۔ ہمارا دھیان بٹ جاتا ہے؛ اکثر نماز کی حالت میں ہمارا ذہن دوسری جگہوں پر چلا جاتا ہے۔ ہمیں نماز کی حالت میں اپنے اندر ایک یکسوئی پیدا کرنی چاہیے؛ اگر یہ یکسوئی پیدا ہو گئی تو اس کا اگلا قدم حضورِ قلب ہے۔ میں آپ سے عرض کروں؛ یکسوئی اور توجہ کی حفاظت پر جو انعام خدا آپ کو دیتا ہے، وہ حضورِ قلب ہے۔ اگر آپ نماز کے کلمات اور عبارات کو ان کے معانی کی طرف توجہ کے ساتھ ادا کر سکے، تو خدا ایسا نقد انعام آپ کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے، اور وہ انعام یہ ہے کہ کچھ لمحوں کے بعد آپ میں حضورِ قلب پیدا ہو جائے گا؛ آپ خدا کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور آپ کا دل نرم ہو جائے گا؛ کبھی آپ کے آنسو جاری ہو جائیں گے؛ آپ میں نیاز کی کیفیت پیدا ہو جائے گی؛ اور یہ اس مجاہدے کا انعام ہے جو آپ کرتے ہیں، اور ذہن کی لگام کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں کہ وہ اِدھر اُدھر نہ جائے۔

نماز میں خدا کے مخاطب ہونے کی طرف توجہ

حضورِ قلب کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو کچھ کہہ رہا ہے اور جو کچھ اس کے ذہن سے گزر رہا ہے اور اس کی زبان پر جاری ہو رہا ہے، اس سے غافل نہ ہو؛ ایسا نہ ہو کہ وہ سمجھے ہی نہیں۔ مثلاً میں جو اس وقت آپ سے بات کر رہا ہوں، تو خیر، آپ مخاطب ہیں؛ انسان کو دھیان ہوتا ہے کہ اس کا ایک مخاطب ہے جو سن رہا ہے اور وہ خود بات کر رہا ہے۔ نماز میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے؛ ہمارا کوئی مخاطب ہو، ہم اس سے بات کریں۔ میں تو یہاں تک عرض کرتا ہوں کہ اگر کوئی نماز کے معنی بھی نہ جانتا ہو، بالکل ہی نہ جانتا ہو کہ ان عبارات کے معنی کیا ہیں، لیکن بس اتنا جانتا ہو کہ وہ کسی سے بات کر رہا ہے، خدا سے بات کر رہا ہے، تو یہ بات انسان کو قریب کر دیتی ہے – ”قربان کلّ تقیّ“[ہر پرہیزگار کے قرب کا وسیلہ] – یہ خود قرب عطا کرنے والی ہے؛ بہ نسبت اس کے کہ مثلاً ہم لوگ، جو اس کے معنی جانتے ہیں اور اس کی تفسیر جانتے ہیں اور اس کے بارے میں کئی کتابیں پڑھ چکے ہیں، لیکن جب نماز پڑھتے ہیں تو بالمرّہبھول جاتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔جو بھی چاہے، خدا کی طرف جا سکتا ہے اور خود کو خدا سے آشنا اور اس کے قریب کر سکتا ہے۔ نماز میں انسان کو لفظ کے حقیقی معنی میں یہ محسوس کرنا چاہیے کہ وہ کسی سے مخاطبہ اور گفتگو کر رہا ہے؛ اس سے مدد مانگ رہا ہے، اس کی پناہ لے رہا ہے، اس سے استضاءہکر رہا ہے اور اس کی رحمت، فضل اور مدد کو جذب کر رہا ہے۔

اذکارِ نماز کے معانی سیکھنے کی ضرورت

ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم فارسی زبان بولنے والے ہیں اور عربی عبارات نہیں سمجھ سکتے۔ نماز میں پڑھی جانے والی تمام عبارات کو شروع سے آخر تک سیکھنا اوسط درجے کے لوگوں کے لیے ایک گھنٹے کا کام بھی نہیں؛ بہت آسان ہے۔ ایسی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں ان کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اگر آپ معانی کی طرف توجہ کریں اور سمجھیں کہ ان کلمات کا مضمون کیا ہے اور ان میں تدبر کریں، تو یقیناً بہتر ہے۔ اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو سکے، تو کم از کم جب آپ سجدے کی حالت میں ہوں تو جانیں کہ خدا سے بات کر رہے ہیں؛ جب رکوع کی حالت میں ہوں تو جانیں کہ پروردگارِ عالم کی تعظیم کر رہے ہیں؛ جب قرائت اور ذکر کی حالت میں ہوں تو جانیں کہ کس سے بات کر رہے ہیں۔ خود یہی توجہ اہم ہے۔ اگر یہ توجہ حاصل ہو جائے اور نماز میں یادِ خدا میسر آ جائے کہ ”وَلَذِكْرُ اللهِ اَكْبَرُ“تو یہ نماز آپ کے لیے ”معراج المؤمن“ [مومن کی معراج] ہوگی اور آپ کو عروج عطا کرے گی۔ عروج یہی ہے کہ آپ نماز کے بعد اپنے باطن میں زیادہ صفا، لطافت اور نورانیت محسوس کرتے ہیں۔

۲- اوّلِ وقت نماز

اوّلِ وقت کی فضیلت کا حصول اور تاخیر کی آفات سے بچاؤ

درست اور نیک کام کو جتنا جلد ہو سکے انجام دینا چاہیے؛ جیسے عبادات، جیسے اوّلِ وقت نماز اور جیسے دوسرے کام جو مُوَقَّتہیں، انسان جتنا اس کام کو ابتدائی لمحات میں اور ان ابتدائی لمحات سے زیادہ قریب انجام دے، اس کی فضیلت اتنی ہی زیادہ ہے؛ کیونکہ انسان محسوس کرتا ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری ادا کر دی، اور تاخیر میں آفات ہیں؛ انسان خود کو ان آفات سے دور رکھتا ہے۔

اوّلِ وقت نماز ترک کرنے سے پرہیز کی ضرورت

مومن کسی بھی کارِ خیر کو شرم و حیا کی وجہ سے بھی ترک نہیں کرتا۔ بعض لوگوں سے کہا جاتا ہے: جناب! آپ نے فلاں جگہ نماز یا نافلہ یا اپنی اوّلِ وقت کی نماز کیوں نہیں پڑھی؟ وہ کہتے ہیں: ہمیں شرم آئی! نہیں، حیا کی وجہ سے کوئی بھی نیک کام ترک نہ کیجیے۔ لوگ کہیں گے کہ دکھاوا کرتا ہے؟ کہنے دیجیے۔ کہیں گے کہ اپنے نمبر بنا رہا ہے؟ کہنے دیجیے۔ اگر کوئی بات حق ہے اور اگر کوئی کام اچھا ہے، تو اسے دوسروں کے لحاظ کی خاطر ترک نہ کیجیے۔کسی علمی کارگاہ، تعلیمی کارگاہ، تحقیقاتی مرکز، فلاں کلاس اور فلاں یونیورسٹی میں کام کرنا اس بات کے ہرگز منافی نہیں کہ انسان اپنی نماز اوّلِ وقت، توجہ کے ساتھ اور خداوند کے سامنے حاضر ہونے کے احساس کے ساتھ بجا لائے۔ یہ آپ کے دل کو دھو کر صاف کر دیتی ہے۔

دفاتر میں اوّلِ وقت نماز قائم کرنا

اپنے کام کے ماحول میں دینداری کو زندہ کیجیے۔ میں نے فوجیوں سے بھی یہ بات کہی؛ دفاتر سے بھی یہی عرض کرتا ہوں؛ یونیورسٹی والوں سے، طلبہ اور اساتذہ سے بھی یہی کہا؛ ماحول کو دینی ماحول بنائیے۔ یہ بری بات ہے کہ کسی دفتر میں نمازخانہ ہو اور آپ، جو دفتر کے سربراہ ہیں، اس میں حاضر نہ ہوں۔ جائیے، نماز نمازخانے میں پڑھیے۔ نماز تو پڑھنی ہی ہے؛ اوّلِ وقت تو ثانیِ وقت سے بہتر ہے؛ جماعت کے ساتھ تو تنہا پڑھنے سے بہتر ہے؛ فریضہ نماز، کہ وہ خلوت کی نسبت مجمع میں بہتر ہے۔ جی ہاں، نافلہ نماز وغیرہ خلوت میں پڑھتے ہیں؛ لیکن فریضہ نماز مجمع میں پڑھنی چاہیے۔ آپ اوّلِ ظہر صرف دس منٹ کے لیے اپنے کمرے سے باہر آئیے؛ پہلے سے وضو کر لیجیے اور تیار ہو جائیے۔ البتہ میں اس طریقے کا، جو چند سال پہلے رائج تھا، اس وقت بھی مخالف تھا؛ اب بھی جو کوئی استفتاء اور سوال کرتا ہے، میں کہتا ہوں کہ میں اس طریقے کو قبول نہیں کرتا کہ گویا اب تفریح کی گھنٹی بجی ہے؛ حضرات کمروں سے باہر نکل آئیں، باتیں کریں، ہنسیں، سگریٹ پئیں؛ آہستہ آہستہ بیت الخلاء جائیں، آہستہ آہستہ وضو کریں؛ لوگوں کا ایک گھنٹہ ضائع کریں کہ چار رکعت نماز پڑھنا چاہتے ہیں! میں اس کا مخالف ہوں... وہ خود کو تیار رکھیں؛ پہلے سے وضو کر لیں، تیار ہو جائیں؛ جب نماز کا اوّلِ وقت ہو جائے تو مسجد میں جائیں، فوراً نماز پڑھیں۔ نمازِ ظہر و عصر میں زیادہ سے زیادہ پاؤ گھنٹہ لگتا ہے؛ پاؤ گھنٹے بعد اپنے کمروں میں آ جائیں۔ اور سب سے پہلے جانے والے آپ ہوں، جو سربراہ ہیں؛ یہ بہت اچھی بات ہے۔ ہمارے دفاتر کا ماحول دینی اور اسلامی ماحول بننا چاہیے۔

۳- اخلاص

ان خصوصیات میں سے ایک، جس پر خودسازی کے لیے توجہ دینا بہت اہم ہے اور شاید اسے اولیت بھی حاصل ہو، ”اخلاص“ ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کام کو خالص انجام دینا اور یہ کہ ہم کوئی کام ملاوٹ کے ساتھ انجام نہ دیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عبادت نہیں کرتا اور کبھی عبادت کرتا ہے، لیکن ملاوٹ والی اور ناخالص؛ یہ بھی اسی کی مانند ہے۔ عبادت کا خالص ہونا اور عمل کا خالص ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کے لیے ہو۔ افسوس کہ لوگوں میں یہ بہت عام ہے کہ وہ اپنے اچھے کاموں کو زبان پر لاتے اور بیان کرتے ہیں؛ گویا انہیں اس کا دھیان نہیں کہ نیک کام کو زبان پر نہیں لانا چاہیے اور یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہم یہ کام کرنا چاہتے ہیں یا ہم یہ کام کرتے ہیں۔ البتہ بعض مقامات مستثنیٰ ہیں۔ کچھ مقامات پر بعض کام علانیہ انجام پانے چاہییں۔ روایات میں صدقے کے باب میں آیا ہے کہ ”صدقۂ سِرّ“ کا یہ ثواب ہے اور ”صدقۂ علانیہ“ کا یہ ثواب۔ یا مثلاً اجتماعی عبادات لوگوں کی نظروں کے سامنے انجام پاتی ہیں اور انجام پانی چاہییں؛ اور یہ شعائرِ الٰہی میں سے ہے۔ لیکن بہت سی عبادات یا اکثر عبادات، یعنی وہ روابط جو خود انسان اور خدا کے درمیان ہیں – ذکر، توجہ، دعا، نافلہ، شب بیداری، سحر خیزی، احسان اور نیک کام – انہیں خود انسان اور خدا کے درمیان ہی رہنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان کوئی کام اس لیے انجام دے کہ دوسرے دیکھیں! جو کام انسان دوسروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے انجام دے، وہ اس کام کو نہ کرنے سے بدتر ہے؛ کیونکہ کام نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوئی کام انجام نہیں دیتا۔ جو کام انسان نے دوسروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے انجام دیا، گویا اس نے انجام ہی نہیں دیا۔ البتہ اس کا بدتر ہونا بھی اس لحاظ سے ہے کہ اس نے ایک شرک آلود عمل انجام دیا ہے اور یہ شرک آلود عمل فعلِ حرام ہے اور انسان کو دور کر دینے والا ہے۔ لہٰذا ہم سب کو، جہاں بھی اور جس مقام و منصب پر بھی ہوں، بہت کوشش کرنی چاہیے کہ کام کو خالص انجام دیں۔

ایک رکعت ہزاروں نمازوں کے برابر

پیغمبرِ اکرم (صلوات اللہ وسلامہ علیہ وآلہ) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”إنّ لكلّ حقّ حقيقة“؛ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور اس کی ایک روح، ایک معنی اور ایک حقیقت ہوتی ہے۔ ”وما بلغ عبدٌ حقيقة الإخلاص“؛ بندہ اخلاص کی حقیقت تک اور اخلاص کے اس حقیقی معنی تک نہیں پہنچتا، ”حتّى لا يحبّ أن يحمد على شيء من عملٍ لله“؛ (یہ بہت مشکل ہے؛ اس کا مرتبہ ان بہت بلند مراتب میں سے ہے۔) مگر یہ کہ اسے یہ پسند نہ ہو کہ لوگ ان کاموں میں سے کسی پر بھی اس کی تعریف کریں جو وہ خدا کے لیے انجام دیتا ہے۔ مثلاً ایک شخص ہے جو کام دوسروں کے لیے انجام نہیں دیتا؛ خدا کی خاطر نماز پڑھتا ہے، ختمِ قرآن کرتا ہے، کوئی کارِ خیر انجام دیتا ہے، احسان کرتا ہے، مدد اور صدقہ دیتا ہے اور خدا کے لیے کوئی مجاہدہ کرتا ہے؛ لیکن پسند کرتا ہے کہ لوگ کہیں: ”یہ صاحب کتنے اچھے آدمی ہیں۔“؛ اس نے اپنا کام لوگوں کے لیے نہیں کیا؛ کام خدا کے لیے انجام دیا اور بات ختم ہو گئی؛ لیکن لوگوں کی مدح سے اور اس بات سے کہ لوگ اس کی تعریف کریں، اسے خوشی ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہ اخلاص کا وہ اعلیٰ مرتبہ نہیں ہے۔ اخلاص کا اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ اسے یہ بھی پسند نہ ہو۔ اسے لوگوں سے کوئی سروکار ہی نہ ہو! چاہے وہ جانیں، چاہے نہ جانیں؛ چاہے انہیں اچھا لگے، چاہے اچھا نہ لگے۔ وہ دیکھے کہ خدا نے اس سے کیا چاہا ہے اور ٹھیک وہی انجام دے۔

...خدائے متعال فرماتا ہے: ”اگر میں بندۂ مخلِص یا مخلَص کو پوری دنیا بھی دے دوں، تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہوتا۔“؛ لہٰذا اس کی جزا اس عمل کے متناسب نہیں جو وہ انجام دیتا ہے۔ اس کی ایک نماز ان ہزاروں نمازوں کے برابر ہے جو خدا کے نیک بندے پڑھیں۔

اخلاص کے ساتھ نماز؛ سب سے بلند عبادت

انسان جو نماز پڑھتا ہے، اگر اسے خدا کے تقرب کی نیت سے پڑھے، اس کی توجہ خدا کی طرف ہو، اخلاص کے ساتھ نماز پڑھے، تو یہ سب سے بلند عبادت ہے؛ اگر یہی نماز ریا کے لیے پڑھے، تو یہ نماز معصیت بن جاتی ہے اور خود وہ نماز گناہ بن جاتی ہے۔ ریا گناہِ کبیرہ ہے؛ اور اس کا مصداق بھی وہی نماز بن جاتی ہے جو ریا کے طور پر پڑھی گئی۔

دعا؛ بے اخلاصی کے بڑے درد کا علاج

خدا سے ہم کلام ہونا اور خود کو اس کے قریب دیکھنا انسان کو اخلاص کی روح عطا کرتا ہے۔ اخلاص کا مطلب ہے کام کو خدا کے لیے انجام دینا۔ تمام کام خدا کے لیے انجام دیے جا سکتے ہیں۔ خدا کے نیک بندے زندگی کے تمام معمول کے روزمرہ کام بھی خدا کے تقرب کی نیت سے انجام دیتے ہیں اور دے سکتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو سب سے بڑھ کر قربت اور عبادت والے کاموں کو بھی – جیسے نماز – خدا کے لیے انجام نہیں دے پاتے۔ بے اخلاصی انسان کے لیے ایک بڑا درد ہے۔ دعا انسان میں اخلاص کی روح پھونکتی ہے۔

۴- خشوع

نبیِ مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امیر المومنین کو جو وصیت فرمائی، اس کی چوتھی بات یہ ہے: ”کثرة البکاء من خشیة الله تعالی“؛ کثرتِ بکاء، یعنی زیادہ رونا، خشیتِ الٰہی سے۔ خیر، رونا انسان کی ایک کیفیت ہے جو کچھ اندرونی فعل و انفعالات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ زبردستی رونا یا تو ممکن ہی نہیں، یا اگر ہم فرض کر لیں کہ وہ بھی اندرونی فعل و انفعالات سے پیدا نہیں ہوتا، تو اس قسم کا رونا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ وہ رونا جو کسی ایسی حقیقت کے تصور سے پیدا ہو کہ ان حقائق میں سب سے اہم یہ ہے کہ انسان خود کو خدائے متعال کے سامنے محسوس کرے اور الٰہی عظمت سے، الٰہی کبریائی سے اس میں خضوع، خشوع اور تذلل کی ایسی کیفیت پیدا ہو جو انسان کے آنسو جاری ہونے کا سبب بنے۔ انسان میں قلبی تغیر کی وہ کیفیت جو آنسو جاری ہونے کا سبب بنتی ہے، اسے انسان کو پیدا کرنا چاہیے۔ اور اس کا راستہ بھی یہی خدائے متعال کی طرف توجہ ہے۔ نماز میں، دعا میں، اگر انسان محسوس کرے کہ وہ خدائے متعال کے سامنے موجود ہے، تو بارگاہِ الٰہی میں حاضری کا یہ احساس انسان کو متغیر کر دیتا ہے، آنسو جاری کر دیتا ہے۔ نماز میں حضورِ قلب کی خاصیت یہی ہے۔ البتہ حضورِ قلب صرف یہ بھی نہیں کہ انسان اپنے ذہن میں نماز کے کلمات کا ترجمہ کرے، بلکہ یہ کہ پروردگار کے سامنے حضور کا احساس کرے اور یہ احساس کرے کہ وہ خدائے متعال سے بات کر رہا ہے۔ یہی احساس ہے جو انسان میں خشوع کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور خشوع کی یہ کیفیت بکاء پر منتج ہوتی ہے؛ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ بزرگان یوں نصیحت کیا کرتے تھے کہ اہم بات یہ ہے کہ آپ دھیان رکھیں کہ نماز میں حضور کی کیفیت سے دانستہ نکلنا واقع نہ ہو؛ یعنی جان بوجھ کر اپنے ذہن کو کہیں اور نہ لے جائیں۔ کبھی کبھی انسان نماز کی حالت میں فطری طور پر توجہ کی کیفیت سے باہر آ جاتا ہے، جو بہت سے مواقع پر اختیاری نہیں ہوتا۔ البتہ اگر انسان دن رات کے اوقات میں اپنے ذہن کے انتشار کو روک سکے اور خدا کی طرف متوجہ اور اس کی یاد میں رہے، تو نماز میں ذکر کی یہ کیفیت اسے زیادہ میسر آئے گی۔ فطری طور پر نماز کی حالت میں ہماری توجہ نماز سے اور توجہ الی اللہ سے ہٹ جاتی ہے۔ خیر! جیسے ہی ہمیں احساس ہو کہ ہمارا ذہن ہٹ گیا ہے، ذہن کو حضور کی طرف واپس لے آئیں؛ یہی مطلوب ہے، جس کی بزرگان ہمیں اور ہم جیسوں کو یوں نصیحت کیا کرتے تھے۔ بہرحال اگر توجہ کی یہ کیفیت پیدا ہو جائے، تو پھر اس کے پیچھے یہ بکاء بھی آتا ہے۔ یہ ناگزیر ہے! بکاء کی یہ کیفیت – جو اس خشیت سے پیدا ہوتی ہے – فطری طور پر طاری ہوتی ہے۔

۵- نماز صحیح پڑھنا

واجب ہے کہ نماز کے تمام واجب اذکار، جیسے حمد و سورہ کی قرائت وغیرہ، صحیح طور پر ادا کیے جائیں، اور اگر نمازی عربی کلمات کے صحیح تلفظ کی کیفیت نہیں جانتا تو اس پر واجب ہے کہ سیکھے، اور اگر سیکھنے پر قادر نہیں تو معذور ہے۔بعض لوگ غیر ملکی زبانوں کی نقل میں اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ ضرور لہجے کی رعایت کریں، اور یہ البتہ ضروری بھی ہے؛ آخرکار اگر آپ کسی سے انگریزی یا عربی زبان میں بات کرنا چاہیں، تو اس سے اسی فارسی لہجے میں بات نہیں کر سکتے؛ اسی کے لہجے میں ہونی چاہیے؛ لیکن جب نماز اور قرآن کی باری آتی ہے، تو افسوس کہ انہیں وسوسہ گھیر لیتا ہے اور کہتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے کہ ہم اس ”و لا الضّالّین“ [اور نہ گمراہوں کا] کو مد دیں؛ بس دوسرے کلمات کی طرح عام انداز میں ادا کر دیں! یہ لوگ اس بات سے غافل ہیں کہ یہ ”و لا الضّالّین“ بغیر مد کے وہ چیز نہیں جو نازل ہوئی ہے؛ اصلاً ”و لا الضّالّین“ مد کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ زبان کے اصول ہم سے یہی تقاضا کرتے ہیں کہ اسے اسی طرح کہیں؛ اگر ہم نے اسے اس طرح نہ کہا، تو گویا ہم نے اسے کہا ہی نہیں!

۶- نماز کو ہلکا نہ سمجھنا

نماز کے لیے وقت صرف کرنا، کم از کم دوسرے کاموں کے برابر

امام جعفر صادق (علیہ السلام) مرض الموت میں اپنے وصی سے فرماتے ہیں کہ: ”لیس منّی من استخفّ بالصّلوة“؛ وہ ہم میں سے نہیں جو نماز کو ہلکا سمجھے۔ استخفاف یعنی ہلکا سمجھنا، کم اہمیت سمجھنا۔ اب یہ نماز، ان تمام خصوصیات کے ساتھ، ان تمام فضائل کے ساتھ، انسان کا کتنا وقت لیتی ہے؟ ہماری واجب نماز – یہ سترہ رکعتیں – اگر انسان احتیاط اور کسی قدر اہتمام کے ساتھ پڑھنا چاہے، تو فرض کیجیے ۳۴ منٹ لیتی ہے، ورنہ اس سے کم وقت لے گی۔ ہمارے ساتھ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ٹیلی وژن کے سامنے کسی ایسے پروگرام کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں جو ہمیں پسند ہے، اور اس سے پہلے مسلسل اشتہارات، اشتہارات، اشتہارات – بیس منٹ، پندرہ منٹ – جن میں سے کوئی بھی ہمارے کسی کام کا نہیں، ہم بیٹھ کر سنتے رہتے ہیں اور اپنے بیس منٹ گنوا دیتے ہیں، اس پروگرام کی خاطر جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری زندگی کے بیس بیس منٹ اسی طرح ہیں۔ ہم ٹیکسی کا انتظار کرتے ہیں، بس کا انتظار کرتے ہیں، اپنے دوست کا انتظار کرتے ہیں کہ آئے تو کہیں جائیں، استاد کا انتظار کرتے ہیں جو کلاس میں دیر سے آیا ہے، اس خطیب کا انتظار کرتے ہیں جو مجلس میں دیر سے پہنچا ہے؛ یہ سب – دس منٹ، پندرہ منٹ، بیس منٹ – ضائع ہو جاتے ہیں۔ تو پھر ان ۲۰ منٹ اور ۲۵ منٹ اور ۳۰ منٹ کو نماز کے لیے – اس بلند پایہ عمل، اس عظیم عمل کے لیے – صرف کرنا آخر کتنی بڑی بات ہے۔