خلوت انس

باب 4

نوافل اور مستحبات کی اہمیت

12 منٹ کا مطالعہ

حضورِ قلب پیدا کرنے میں نماز کے مستحبات کا اثر

روایات میں نماز کی مختلف حالتوں کے لیے کچھ خصوصیات مقرر کی گئی ہیں؛ یہ واجب نہیں، مستحب ہیں۔ کھڑے ہونے کے وقت کہاں نگاہ کریں؛ سجدہ کرتے وقت کہاں نگاہ کریں؛ رکوع کے وقت، بعض روایات میں ہے کہ اپنی آنکھیں بند کر لیں؛ بعض روایات میں ہے کہ سامنے کی طرف دیکھیں؛ یہ تمام خصوصیات حضور اور توجہ کی اس حالت میں مدد دیتی ہیں جو انسان کے لیے ضروری ہے۔

فریضہ نماز کی صحیح ادائیگی؛ نوافل کے اشتیاق کی زمینہ ساز

بعض لوگ کچھ خاص چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں؛ کسی کو ڈھونڈیں، اس سے کوئی ذکر لیں، اس سے کوئی ریاضت سیکھیں۔ ان چیزوں کی ضرورت نہیں؛ شرعی ریاضت معین ہے۔ اگر ہم یہی نمازیں پڑھیں، صحیح پڑھیں، وقت پر پڑھیں، ان کے ارکان کو صحیح طور پر بجا لائیں، توجہ کے ساتھ پڑھیں، یا روزہ صحیح طریقے سے رکھیں – یہی واجبات اور فرائض جو ہمارے اختیار میں ہیں – تو یہی چیزیں انسان کو پرواز کراتی ہیں۔

اور میں آپ سے عرض کروں؛ اگر ہم یہی مقدار انجام دے دیں، تو خود یہی چیز بڑی مقدار میں انوارِ الٰہی کو جذب کرنے کی زمین ہموار کر دے گی؛ یعنی یہ کم سے کم مقدار جو ہمارے لیے ضروری ہے، اس کی خوبی صرف یہ نہیں کہ وہ ہمیں اس راستے کو طے کرنے کے قابل بنا دے گی؛ بلکہ اس کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ نورِ الٰہی اور فضلِ الٰہی کو زیادہ جذب کرنے کے لیے ہمارے اندر زمین ہموار کر دے گی۔ جب انسان فریضہ نماز اچھی طرح پڑھے گا تو فطری طور پر اس میں نوافل کی رغبت پیدا ہو جائے گی۔ جب انسان جھوٹ سے، غیبت سے، بغیر علم کے بات کہنے سے، تہمت سے، فساد پھیلانے سے، لوگوں کا مال ہڑپ کرنے سے، امانت میں خیانت سے پرہیز کرے گا تو خود یہی چیز انسان کے دل کو ہدایتِ الٰہی اور معرفتِ الٰہی حاصل کرنے کے لیے آمادہ کر دے گی؛ ہمیں آگے لے جائے گی۔

ذمہ داری کا بھاری بوجھ اٹھانے کے لیے نمازِ شب کی تلقین

حضرتِ حق نے اپنے عزیز اور حبیب پیغمبر سے، جو پوری تاریخ میں، اوّلین و آخرین میں سب سے برتر انسان تھے، خطاب فرمایا کہ نمازِ شب پڑھیے؛ آدھی رات کو اٹھیے، اپنے رابطے اور اتصال کو مستحکم کیجیے؛ کیونکہ آپ کے سامنے ایک بھاری کام ہے۔ ”إنّا سَنُلقی عَلیکَ قولاً ثقیلاً“؛ اس بوجھ کو اٹھانا مشکل ہے۔ وہ لوگ جو دشمن اور شیطان سے بھرے اس راستے کے بیچ میں لرز گئے، پھسل گئے، پلٹ گئے، دشمن سے جا ملے، یا دوسری آفتوں میں مبتلا ہو گئے، ان کے کام کے اسی مقام میں – یعنی معنویت میں – عیب تھا۔یہ جو ماضی میں بعض مدارس کے سربراہ سحر کے وقت جاتے اور دیکھتے تھے کہ طلاب میں سے کون نمازِ شب پڑھ رہا ہے اور کون نہیں پڑھ رہا، یعنی اس بات کی نگرانی کرتے تھے کہ طالب علم حتی المقدور نمازِ شب سے محروم نہ رہے، یہ بہت پُرمعنی بات ہے۔ البتہ اُس زمانے میں یہ کام آسان تر تھا؛ آج ٹیلی وژن، ٹی وی ڈراموں اور اس طرح کی چیزوں کے ہوتے ہوئے کام مشکل ہے؛ لیکن یہ مشکل کام آپ کو انجام دینا ہوگا۔

روح و دل کی صفا؛ صرف نماز، ذکر اور توسل کے ذریعے

جہاں تک ہو سکے، نماز کو، نماز میں توجہ اور ذکر کو، اور نوافل کو اہمیت دیجیے۔ خدائے متعال پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے فرماتا ہے: ”قُمِ الَّیلَ الاّ قلیلاً نصفه او انقص منه قلیلاً او زِد علیه ورَتِّلِ القرآن ترتیلاً اِنّا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً“؛ یعنی آدھی رات جاگتے رہیے، یا رات کے دو تہائی حصے جاگیے اور عبادت کیجیے – یہ پیغمبر کے لیے ہے؛ میرا اور آپ کا اپنے لیے ایسی باتیں کرنا واقعی چھوٹا منہ بڑی بات ہے – کیوں؟ ”انّا سنلقی علیک قولاً ثقیلاً“؛ ہم آپ پر ایک بھاری کلام القا کرنا چاہتے ہیں؛ ہم آپ سے ایک بڑی بات کہنا چاہتے ہیں؛ لہٰذا آپ کو خود کو تیار کرنا چاہیے۔

بھاری بوجھ کے لیے روحانی آمادگی درکار ہوتی ہے؛ اور یہ روحانی آمادگی بھی یونہی حاصل نہیں ہو جاتی۔ یہ جو ہم کہیں کہ صاحب! جائیے، اپنا دل صاف کیجیے، تو ہاں، اصل بنیاد وہی دل کو صاف کرنا ہے؛ لیکن دل کی صفائی صرف نماز کے ذریعے، توسل کے ذریعے، توجہ کے ذریعے اور ذکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔

اگر کوئی یہ خیال کرے کہ ان چیزوں کے بغیر دل اور روح کو صاف کیا جا سکتا ہے تو وہ سخت غلطی پر ہے۔ آدھی رات کے گریے کے ذریعے، تدبر اور غور کے ساتھ قرآن پڑھنے کے ذریعے، صحیفۂ سجادیہ کی دعائیں پڑھنے کے ذریعے انسان کا دل صاف ہوتا ہے؛ ورنہ ایسا نہیں ہے کہ ہم کہہ دیں: صاحب! جائیے، اپنا دل صاف کیجیے؛ اور پھر آپ نے جو کچھ بھی کیا، سو کیا۔

جہاں تک ہو سکے نمازِ شب پڑھیے!

جتنا ہو سکے اپنی تعمیر کیجیے؛ فکری لحاظ سے بھی اپنی تعمیر کیجیے، ایمانی لحاظ سے بھی تعمیر کیجیے؛ فکر کو بھی درست کیجیے، ایمان اور دل کو بھی درست کیجیے؛ خدا سے اُنس رکھیے؛ اگر ہو سکے تو جہاں تک ہو سکے، نمازِ شب پڑھیے۔

نمازِ شب، گناہوں کو دور کرنے والی

”قال: قال الصّادق علیه السلام فی قوله تعالی: ‘انّ الحسنات یذهبن السّیّئات’“؛ خیر، یہ تو قرآن کی آیت ہے اور اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں؛ پس اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کچھ حسنات ایسی ہیں جو سیئات کو مٹا دیتی ہیں؛ یہ نہیں کہ تمام حسنات میں یہ خصوصیت ہے کہ وہ تمام سیئات کو مٹا دیں! کلام کا ظاہر یہ ہے کہ حسنات کی ماہیت – [کیونکہ] یہ ”الف“ اور ”لام“، استغراق کا ”الف“ اور ”لام“ نہیں ہے – سیئات کی ماہیت کو مٹا دیتی ہے؛ اور یہ اس بات پر منطبق ہوتا ہے کہ بعض حسنات بعض سیئات کو مٹا دیتی ہیں۔ خیر، اب کون سی حسنات؟ یہاں حضرت نے تبصیرفرمائی:

”قال: صلاة اللّیل تذهب بذنوب النّهار“؛ جب آپ نمازِ شب پڑھتے ہیں تو جو گناہ آپ نے دن میں انجام دیے ہیں، وہ انہیں مٹا دیتی ہے؛ اس سے بہتر اور کیا چیز ہو سکتی ہے؟ یہ جو اہلِ معنی، اہلِ معرفت اور اہلِ سلوک نمازِ شب کو ایک ختم نہ ہونے والا خزانہ اور ذخیرہ سمجھتے ہیں، اسی وجہ سے ہے۔ یہ تو نمازِ شب کا اُخروی پہلو ہے کہ وہ گناہوں کو مٹا دیتی ہے؛ البتہ گناہوں کے دنیوی آثار بھی ہوتے ہیں اور اُخروی آثار بھی؛ جب وہ گناہوں کو مٹاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گناہوں کے برے دنیوی آثار کو بھی مٹا دیتی ہے۔ لیکن خیر، یہ گناہ کے پہلو سے متعلق ہے؛ یعنی اُخروی امر کا پہلو، آخرت سے متعلق امر۔ لیکن دنیا کے مسائل کے بارے میں بھی ایسا ہی ہے؛ بعض روایات میں ہے کہ یہ رزق میں کشادگی کا باعث بنتی ہے – اور یہ دنیوی امر ہے – اور بہت سے دوسرے فوائد بھی۔

... ہم لوگ دن میں مسلسل مصروف ہی تو رہتے ہیں؛ یعنی درحقیقت ایک لحاظ سے دنیا کے کاموں میں مشغول؛ اب یہ ہماری نیتوں پر منحصر ہے۔ ہماری مصروفیات دنیاوی قسم کی مصروفیات ہیں؛ خواہ کسی کی نیت خالص ہی کیوں نہ ہو اور وہ خدا کا قصد بھی کرے – اگر خدا ہم لوگوں کو ایسا قصد عطا فرمائے – لیکن ہماری گفت و شنید، دنیاوی گفت و شنید ہے؛ ہمارا سامنا لوگوں سے ہے، دنیا سے ہے، واقعات سے ہے؛ دن میں وقت کو خالی رکھنے اور خدا کے ساتھ خلوت کرنے کا موقع واقعاً ہاتھ نہیں آتا، ممکن ہی نہیں ہوتا؛ سوائے ان لوگوں کے جو اہلِ نمازِ دائم ہیں – ”خوش نصیب ہیں وہ جو ہمیشہ نماز میں ہیں“– جو تمام حالات میں خدا کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لیکن عام طور پر ہم لوگ، مجھ جیسے لوگ، دن میں مصروف ہی رہتے ہیں؛ ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا کہ خدا کے ساتھ خلوت کریں؛ سحر، خدا کے ساتھ خلوت کا وقت ہے۔ ہمیں اس وقت کو، اس موقع کو غنیمت سمجھنا چاہیے؛ خصوصاً آپ لوگ جو جوان ہیں، خصوصاً جوان؛ البتہ سب ہی، لیکن جوان زیادہ اہلیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی اثر پذیری زیادہ ہوتی ہے، بہتر ہوتی ہے؛ جیسے اگر ہم ورزش کریں تو آپ جو جوان ہیں، ورزش سے اس سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں جتنا ہم جو بڑی عمر کے ہیں؛ بات یونہی ہے، اگر ایک بوڑھا وہی ورزش کرے – اور کر بھی سکے – جو ایک جوان کرتا ہے، تو جو فائدہ وہ جوان اٹھاتا ہے وہ اس فائدے سے بہت زیادہ ہے جو وہ بوڑھا اٹھاتا ہے؛ اگر آپ کوئی مقوی غذا کھائیں یا مجھ جیسے کسی بوڑھے آدمی کو اسے کھانے کی توفیق ملے، تو اس مقوی غذا سے جو فائدہ آپ اٹھاتے ہیں وہ اس [فائدے] سے کہیں زیادہ ہے جو ایک بوڑھا آدمی [اٹھاتا ہے]۔ معنویات بھی ایسی ہی ہیں، روحانی غذا بھی ایسی ہی ہے: تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، خدا کی طرف توجہ، استغاثہ، استغفار، نماز اور نمازِ شب۔

نمازِ جعفرِ طیار (علیہ السلام) کی فضیلت

”لمّا قدم جعفر بن ابی طالب(علیه السّلام)“ [امیر المومنین (علیہ السلام) نے فرمایا: جب جعفر (علیہ السلام)] برسوں حبشہ کی ہجرت میں رہنے کے بعد – اور وہاں انہوں نے کیسی کیسی خدمات انجام دی تھیں، کیسی کیسی زحمتیں اٹھائی تھیں اور کیسی کیسی سختیاں جھیلی تھیں – چھٹے سال، ظاہراً فتحِ خیبر کے بعد، حبشہ سے واپس آئے، ”تلقّاه رسول الله(صلّی‌الله‌علیه‌وآله) و قبّل بین عینیه“؛ پیغمبر نے، جنہیں جعفر سے بہت زیادہ محبت بھی تھی، ان سے ملاقات کی اور ان کی پیشانی چومی۔ ”فلمّا جلسنا [قال رسول الله:] الا اعطیک؟ الا امنحک؟ الا احبوک؟“ [جب] ہم بیٹھ گئے تو آنحضرت نے جعفر کی حوصلہ افزائی کے طور پر فرمایا: کیا خیال ہے، تمہیں کوئی چیز دوں؛ کیا خیال ہے، تم پر کوئی عنایت کروں؛ کیا خیال ہے، تمہیں کوئی ہدیہ دوں۔ خیر، اب آنحضرت اپنے اس عزیز، مجاہد اور محنت کش چچا زاد بھائی کو، جو برسوں پردیس میں جا کر رہے، اسلام کی ترویج کی اور وہاں کے بادشاہ کو مسلمان کیا، کوئی چیز دینا چاہتے ہیں؛ اچھا، کیا چیز؟ کیا آنحضرت [کسی تھیلی میں] ہاتھ ڈالیں، مثلاً بہارِ آزادی کے پچاس سکے [دیں] اور کہیں کہ یہ تمہارے ہیں؟ ”قال: بلی یا رسول الله“؛ [انہوں نے کہا:] اچھا، جی ہاں، عنایت فرمائیے۔ وہ خوش ہوئے کہ پیغمبر انعام کے طور پر انہیں کوئی چیز ہدیہ کرنا چاہتے ہیں۔ ”فقال(صلّی‌الله‌علیه‌وآله): تصلّی اربع رکعاتٍ تقرا فی کلّ رکعةٍ سورة الحمد وسورة“؛ [آنحضرت نے] انہیں نمازِ جعفر سکھائی۔ دیکھیے؛ اقدار یہ ہیں۔ ہم بہت دفعہ معیاروں کو کھو دیتے ہیں۔ [پیغمبر نے فرمایا:] چار رکعت نماز پڑھو گے؛ حمد کے بعد کوئی ایک سورہ پڑھو۔ اس روایت میں وہ سورۂ ”إذا زلزلت“، سورۂ مبارکۂ ”والعادیات ضبحا“، سورۂ ”إذا جاء نصرالله“اور ”قل هوالله“نہیں ہیں۔ یہ جو اصطلاحاً ماثور میں آیا ہے کہ یہ چار سورتیں پڑھی جائیں، وہ یہاں نہیں ہے۔ ”ثم تقول: سبحان الله و الحمد لله ولا اله الا الله و الله اكبر؛ خمس عشرة مرّة“؛ قرائت کے بعد پندرہ مرتبہ [یہ ذکر – سبحان‌الله و الحمدلله و لااله ‌الاّالله و الله‌اکبر – کہو گے]۔ ”ثم تركع فتقول هذا التّسبيح عشرا“؛ رکوع میں دس بار [یہ تسبیح – سبحان‌الله و الحمدلله و لااله ‌الاّالله و الله‌اکبر – کہو گے]۔ ”ثمّ ترفع رأسك فتقول عشر مرّات“؛ اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد دس بار [یہ ذکر – سبحان‌الله و الحمدلله و لااله ‌الاّالله و الله‌اکبر – کہو گے]۔ ”ثم تسجد فتقول عشراً ثم ترفع رأسك فتقول عشراً ثمّ تقوم الى الرّكعة الثانية فتفعل مثل ذلك، فذلك خمس وسبعون مرّةً فى كلّ ركعة“؛ ہر رکعت میں ۷۵ مرتبہ ”سبحان‌الله و الحمدلله و لااله ‌الاّالله و الله‌اکبر“ [اللہ پاک ہے، اور حمد اللہ ہی کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اللہ سب سے بڑا ہے]۔ چار رکعتیں ہیں، تو چار رکعتوں میں مجموعی طور پر تین سو مرتبہ ہو جاتا ہے۔ ”فان استطعت ان تصلّيها كلّ يومٍ فافعل“؛ اگر تم میں اس کی طاقت ہے اور تمہارے پاس اس کا وقت ہے کہ اسے ہر روز پڑھو، تو پڑھو۔ ”فان لم تستطع ففى كلّ جمعة“؛ [اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو ہر جمعے کو اسے پڑھو۔] چنانچہ آپ نے دیکھا ہے کہ مرحوم حاج شیخ عباس مفاتیح میں نمازِ جعفر کو روزِ جمعہ کی ان نمازوں میں ذکر کرتے ہیں جو خاص طور پر مستحب ہیں۔ ”فان لم تستطع ففى كلّ شهر، فان لم تستطع ففى كلّ سنة“؛ [پس اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو ہر مہینے بجا لاؤ اور اگر اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے تو] سال میں کم از کم ایک بار نمازِ جعفر پڑھیے۔ ”فان لم تستطع ففى عمرك مرّة“؛ [اگر اس کی طاقت نہیں رکھتے تو] اپنی عمر بھر میں ایک بار اسے پڑھ لو۔ یہ پیغمبر کا ہدیہ ہے۔

نافلہ نمازوں کی ادائیگی کے لیے ماہِ مبارکِ رمضان کے موقع سے فائدہ اٹھانا

یہ ۳۴ رکعت نوافل جو دن اور رات کی نمازوں کے لیے وارد ہوئے ہیں، بہت قیمتی ہیں۔ ماہِ رمضان ایک اچھا موقع ہے۔ ہم عموماً نوافل پڑھنے والے نہیں ہیں۔ لیکن جب ماہِ رمضان آ جائے تو کیا رکاوٹ ہے؟ روزے کی حالت میں کون سا کام نماز پڑھنے سے بہتر ہے؟ نمازِ ظہر چار رکعت ہے، ان چار رکعتوں سے پہلے آٹھ رکعت نافلہ ہے؛ دو دو رکعت کی چار نمازیں۔ نمازِ عصر چار رکعت ہے اور ان چار رکعتوں سے پہلے نمازِ عصر کی آٹھ رکعت نافلہ ہے۔ یہ نوافل پڑھیے۔ اسی طرح مغرب کے نوافل بھی، جو ان سے زیادہ اہم ہیں؛ اور نیز رات کے نوافل جو گیارہ رکعت ہیں۔ اسی طرح صبح کا نافلہ جو دو رکعت ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے لیے سال کے عام دنوں میں صبح کی اذان سے پہلے نمازِ شب کے لیے بیدار ہونا مشکل ہوتا ہے؛ لیکن ان راتوں میں وہ خود بخود اور فطری طور پر بیدار ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک توفیقِ الٰہی ہے؛ ہم اس توفیق سے فائدہ کیوں نہ اٹھائیں؟ ان شاء اللہ ماہِ رمضان کے مواقع کو غنیمت سمجھیے۔