اقامۂ نماز؛ مومنین کی نشانی
مومنین کی [نشانی] اقامۂ نماز ہے: ”ویقیمون الصّلاة“۔ آیت نے ”یقیمون“ کی تعبیر استعمال کی ہے، جس کا معنی اقامہ کرنا اور قائم کرنا ہے، اور جو ”یُصَلّون“ کی تعبیر سے مختلف ہے جس کا معنی نماز پڑھنا ہے۔ شاید اس تعبیر کے استعمال کی وجہ ان پہلوؤں میں سے کوئی ایک ہو: پہلا یہ کہ اقامۂ نماز کا مطلب نماز کو اس طرح بجا لانا ہے جیسے اسے ہونا چاہیے؛ یعنی مومنین نماز کو ”علی وجهها“ بجا لاتے تھے، ورنہ منافق بھی نماز پڑھتا ہے، اور کبھی تو منافق کی نماز کا ظاہر مومن سے بھی بہتر ہوتا ہے اور وہ خضوع کے ساتھ نماز پڑھتا ہے، لیکن اس میں روح اور مغز نہیں ہوتا۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ ”ویقیمون الصّلاة“ سے مراد معاشرے میں نماز کو بجا لانا ہو؛ یعنی وہ نہ صرف خود نماز پڑھتے ہیں بلکہ معاشرے کو نماز پر آمادہ کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ تمام لوگ نماز کی طرف رخ کریں۔
نماز قائم کرنے کا حقیقی مفہوم
نماز قائم کرنا نماز پڑھنے سے مختلف چیز ہے، اور افسوس کہ بعض ترجموں میں دیکھنے میں آتا ہے کہ لکھتے ہیں: ”اور نماز پڑھتے ہیں۔“، حالانکہ نماز پڑھنا عربی میں ”یصلّون“ ہوتا ہے، اور ”یقیمون الصّلاة“ یعنی نماز قائم کرتے ہیں؛ پس نماز قائم کرنا نماز پڑھنے سے بڑھ کر ایک چیز ہے، جو البتہ نماز پڑھنے کو بھی شامل ہے؛ یعنی اگر آپ نماز قائم کرنے والوں میں شامل ہونا چاہیں تو نماز پڑھنا ترک نہیں کر سکتے۔ نماز قائم کرنے کا مطلب ہے: ماحول اور معاشرے میں اس واجب اور اس لطیف حقیقت کو وجود میں لانا، ماحول کو نماز کا ماحول بنانا، دوسرے کو نماز کی دعوت دینا، نماز کو توجہ کے ساتھ ادا کرنا، اور نماز کے مفاہیم کو زندگی میں عملی جامہ پہنانا۔
نماز کے ذریعے توحیدی معاشرے کا قیام
اس میدان میں آگے بڑھنے کے لیے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ دو چیزیں ہیں: ایک محرّک، یعنی وہ اندرونی قوت جو انسان کو حرکت دے اور راستے پر لے چلے؛ دوسرے، وہ قطب نما جس کی بدولت انسان اس رہنما ستارے کو فراموش نہ کرے اور اس کی سمت ٹیڑھی نہ ہو۔ اگر محرّک نہ ہو تو انسان راستے کے بیچ ہی میں رہ جاتا ہے؛ مشکلات بہت ہیں۔ توحیدی معاشرے کا قیام، انسانوں کے درمیان عدل کا قیام، باطل خواہشات کے ان بے شمار طوفانوں کے درمیان حق کا خیمہ نصب کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے؛ محرّک ضروری ہے۔ یہ محرّک عبارت ہے خدا کی طرف توجہ سے؛ ”ذکر الله“ [اللہ کی یاد]؛ پروردگار سے مدد لینا، کام کو خدا کے حساب سے انجام دینا؛ اور وہ قبلہ نما عبارت ہے کام کے ہدف کی طرف توجہ سے، اور اس بات سے کہ ہمارا مقصود طاقت نہیں ہے، دولت نہیں ہے، ہوس پرستی نہیں ہے، ذاتی تمنائیں نہیں ہیں، طرح طرح کی سیاسی مصلحتیں نہیں ہیں؛ بلکہ ہمارا ہدف خدا ہے۔ یہ دونوں خصوصیات، یہ دو اہم عوامل، یعنی محرّک اور سمت کا تعین، نماز میں سمٹ آئے ہیں۔
نماز کے اپنے مقام پر قرار پانے سے مثالی معاشرے تک رسائی
نماز کی اہمیت کو صحیح طور پر سمجھنا چاہیے۔ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اگر نماز بارگاہِ خداوندی میں مقبول ہو جائے تو دوسری خدمات اور زحمتیں بھی قبول ہو جاتی ہیں، اور اگر نماز رد ہو جائے تو اس کے سوا جو کچھ ہے وہ بھی رد ہو جاتا ہے، یہ بات ہمیں ایک عظیم حقیقت دکھاتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں نماز اپنے شایانِ شان مقام پر قرار پائے تو تمام مادی اور معنوی تعمیری کوششیں اعلیٰ نصب العین کی سمت اپنا راستہ کھول لیتی ہیں اور معاشرے کو اسلام کے مطلوبہ مثالی مقام تک پہنچا دیتی ہیں، اور اگر نماز کی اہمیت سے غفلت برتی جائے اور نماز کو بے اعتنائی کا نشانہ بنایا جائے تو یہ راستہ صحیح طور پر طے نہیں ہوگا، اور کوششیں اور مجاہدتیں اس چوٹی تک پہنچانے میں، جس کا نقشہ اسلام نے انسانی معاشرے کے لیے کھینچا ہے، مطلوبہ اثر نہیں رکھیں گی۔
یہ حقیقت ہم سب کو خبردار کرتی ہے اور ایک بھاری ذمہ داری ہمیں یاد دلاتی ہے۔ ثقافتی اور فنی کوششیں، تعلیمی منصوبہ بندیاں وغیرہ، سب کو اس طرح ترتیب دیا اور نافذ کیا جانا چاہیے کہ نماز مطلوبہ کیفیت کے ساتھ روز بروز لوگوں میں، خصوصاً جوانوں اور نوجوانوں میں، رونق پائے اور سب حقیقی معنوں میں پاکیزگی اور روشنی کے اس چشمے سے بہرہ مند ہوں۔ بلاشبہ ثقافتی اور تعلیمی امور کے متعدد اداروں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ادارے اور مساجد کے انتظام سے وابستہ افراد کو دوسروں سے بڑھ کر ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔
اسلامی ملک میں اقامۂ نماز، واجب ترین فرائض میں سے
جس ملک نے اسلام کا پرچم اپنے سر پر بلند کیا ہے اور اسلام کی حاکمیت سے سرفراز ہوا ہے، اس میں اقامۂ نماز واجب ترین فرائض میں سے ایک ہے؛ کیونکہ ایک خوش بخت معاشرے کے تمام اہداف، جیسے سماجی انصاف کی فراہمی، عمومی خوشحالی اور مادی ترقی کا حصول، صلاحیتوں اور تخلیقی قوتوں کی پرورش عوام کے ایک ایک فرد میں، علم و دانش، بصیرت اور تجربے سے بہرہ مندی، قومی عزت، خود مختاری اور اقتدار، انسانی اخلاق اور عوام کے افراد کے درمیان صحت مند تعلقات کا فروغ اور دیگر اعلیٰ اہداف، اسی صورت میں حاصل ہوتے ہیں جب عوام کے ہر فرد میں، خصوصاً ملکی امور کے کارگزاروں میں، انفرادی تربیت اور اخلاقی تہذیب فراہم ہو، اور اس معاشرے میں ایسے پاکیزہ انسان موجود ہوں جو ہمت، توکل، اخلاص، صبر اور جفاکشی سے بہرہ مند ہوں، جو اس روحانی پشت پناہی کی مدد سے بھاری بوجھ اٹھانے کی توانائی رکھتے ہوں اور طرح طرح کی رکاوٹوں کے سامنے، بالخصوص فساد اور تباہی کی لہروں کے مقابلے میں، ڈٹ جانے کا یارا رکھتے ہوں۔ کسی معاشرے اور ملک میں ایسے انسانوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی، اس معاشرے اور اس ملک کے مستقبل کا افق اتنا ہی زیادہ روشن، اور اس معاشرے اور اس ملک میں خوش بختی کی جانب پیش قدمی اتنی ہی زیادہ ممکن اور آسان ہوگی۔
اقامۂ نماز میں معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری
اب نماز، جو ایک بے مثال عطیہ اور لازوال فیض کا سرچشمہ ہے، ہمارے اختیار میں ہے، تاکہ اس کے ذریعے ہم پہلے خود کو اور پھر ہر اس شخص کو جس سے ہم محبت کرتے ہیں، صالح انسان بنائیں۔ یہ ایک وسیع اور پاکیزہ میدان کی طرف کھلا ہوا دروازہ ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ انسان ایک عمر کسی پاکیزہ جنت کے پڑوس میں گزار دے اور اس میں جھانک کر بھی نہ دیکھے اور اپنے عزیزوں کو اس کی طرف نہ لے جائے۔ وحیِ الٰہی نے پیغمبرِ عظیم الشان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں حکم دیا: ”وأمر اهلک بالصّلاة واصطبر علیها“۔ آج آپ سب خود کو اس خطاب کا مخاطب سمجھیں اور نماز کی، یعنی اس مقدس حقیقت اور درخشاں گوہر کی جو امتِ محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے لیے الٰہی عطیہ ہے، قدر پہچانیں۔ اس ذمہ داری میں ہر ایک کا ایک خاص حصہ ہے: ماں باپ اپنے قول و فعل سے بچوں کو نماز کی ترغیب دیں اور ان کی رہنمائی کریں۔ اساتذہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو اس درخشاں حقیقت کی سمت حرکت پر آمادہ کریں۔ فضلاء، علماء اور محترم علمائے دین، تعلیمی مراکز اور طلبہ کی رہائش گاہوں میں نئی نسل کے لیے نمازِ جماعت کی امامت کو ایک غنیمت موقع سمجھیں۔ درسی کتابوں کے مصنفین نماز کے اسرار و رموز اور اس کے درسوں کو درسی کتابوں میں شامل کریں۔ وزارتِ ارشاد، ادارۂ تبلیغات اور ریڈیو و ٹیلی ویژن نماز کے گوہر اور نمازی کے چہرے کو دکھانے کے لیے فن، بالخصوص فنِ سینما، سے استفادہ کریں۔ عزیز فنکار شعر، کہانی، مصوری اور ان جیسی دوسری چیزوں کی زبان سے، اور معیاری بلکہ ممتاز فن پارے تخلیق کر کے، فن کے ماہر ہاتھ کو ایسے شائستہ کام میں مشغول کریں۔ اسکولوں میں اساتذہ اور منتظمین، اور تمام مراکز میں ذمہ داران، نماز کی صفوں میں اپنی موجودگی سے نمازیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ علمی، ثقافتی، تعلیمی اور تبلیغی اجتماعات میں نماز کو اس کے وقت پر، صداقت اور ہدایت کے الہام بخش کے طور پر، ادا کریں۔ دینی مصنفین اور مقررین نماز اور اس کے مفہوم، فلسفے، ہدف، آثار، برکات اور احکام کے بارے میں بولیں اور لکھیں۔ لوگ نمازِ جماعت میں، جو نماز ادا کرنے کا بہترین طریقہ ہے، شرکت کر کے مساجد کو رونق بخشیں۔ تمام عوامی عمارتوں اور ان جگہوں میں جہاں قدرتی طور پر ہمیشہ لوگ جمع ہوتے ہیں، جیسے ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشن، بندرگاہیں، عوامی گاڑیوں کے اڈے، سرکاری دفاتر، شہری باغات اور اسی طرح کی دوسری جگہیں، نمازخانے یا مسجدیں تعمیر کریں، اور اس کے علاوہ لوگ نماز کا وقت آنے پر ہر پاکیزہ اور مناسب زمین کو مسجد شمار کریں اور اس پر نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں۔
اس طرح کا کام ہر شخص اور عوام کے ہر طبقے کے لیے موجود ہے، اور ہر ایک کو چاہیے کہ جستجو کرے اور اس ہمہ گیر فریضے میں اپنا حصہ تلاش کرے اور اسے انجام دینے میں لگ جائے۔ یہی وہ صورت ہے جس میں ہمارا اسلامی معاشرہ نماز کو قائم کر سکے گا اور اس آیۂ کریمہ کا مصداق بنے گا کہ: ”الّذین ان مکّناهم فی الارض اقاموا الصّلاة و آتوا الزّکوة و امروا بالمعروف و نهوا عن المنکر و للّه عاقبة الامور“
نماز کی دعوت، زندگی کے حسین ترین جلووں کی دعوت
نماز کی دعوت، زندگی کے حسین ترین جلووں کی دعوت ہے، کیونکہ نماز زندگی کا ایک ایسا باب ہے جس میں انسان تمام نیکیوں اور خوبصورتیوں کے خالق اور مالک کے حضور عاشقانہ عرضِ نیاز کرتا ہے اور اپنی روح اور دل کی خوبصورتی اور نیکی کے عیار میں اضافہ کرتا ہے۔ قرآن و حدیث میں ذکر اور نماز کی تاکید کا یہ عظیم حجم اور مؤثر انداز، نماز کی دعوت میں اسی خصوصیت کی علامت ہے۔ خداوند کے صالح اور نیکوکار بندوں کو چاہیے کہ اسے اپنے لیے ایک درس سمجھیں اور نماز کی دعوت دیں۔ اسلامی نظام میں مومن ذمہ داران کو چاہیے کہ اپنے وسیع وسائل اس دعوت کی خدمت میں لگا دیں۔ عالمِ دین، استاد، مربی، منتظم اور ذمہ دار، ہر جگہ اپنے مخاطبین اور اپنے حلقۂ اثر کو اس سمت کھینچ لائیں اور انہیں خدا اور نماز کی طرف دعوت دینے والا بنائیں۔
اقامۂ نماز کے طویل مدتی، درمیانی مدتی اور قلیل مدتی اہداف
معاشرے میں اقامۂ نماز کا طویل مدتی ہدف سب کی صلاح و فلاح ہے، لیکن اس اعلیٰ مقصد تک پہنچنے تک درمیانی مدتی ہدف، تمام گھروں میں اور دلوں کے گھر میں نماز کا چراغ روشن کرنا ہے؛ اور قلیل مدتی ہدف، ملک کی تمام علمی، فنی اور تبلیغی صلاحیت کو اس راہ میں بروئے کار لانا اور اس نوعیت کی تمام کوششوں کو اس سمت میں رخ دینا ہے۔ جس طرح نماز ادا کرنے کے لیے قبلے کو پہچاننا اور اس کی طرف رخ کرنا ضروری ہے، اسی طرح دنیا کی فضا اور دلوں کی دنیا کو نماز کی خوشبو، جلوے اور روح سے لبریز کرنے کے لیے بھی ایک قبلہ موجود ہے جسے تلاش کرنا اور جس کی طرف رخ کرنا ضروری ہے۔ یہ قبلہ نماز کے وہی اعلیٰ اور آخری اہداف ہیں، اور اس کی طرف رخ کرنا ان راستوں کو طے کرنا ہے جو اس تک پہنچاتے ہیں، اور یہ راستے قلیل مدتی اور درمیانی مدتی اہداف کے قالب میں متعین کیے جا سکتے ہیں۔
پورے شہر میں اذان کی آواز سنائی دینے کی ضرورت
کیوں اس عظمت والے شہر میں، اطراف و اکناف سے اٹھنے والے طرح طرح کے اتنے شور شرابے کے ہوتے ہوئے، شہر میں ہر جگہ اذان کا نغمہ سنائی نہ دے؟! اذان مسلمانی کی علامت ہے۔ کس نے کہا ہے کہ مساجد کی چھتوں پر یا بڑی اور اہم مساجد میں، حتیٰ سحر کے وقت بھی – ظہر اور رات کی تو بات ہی الگ ہے – لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان نہ دی جائے؟ جب اذان کا وقت ہو تو پورے تہران میں ہر طرف اذان ہی کی آواز ہونی چاہیے۔ کیا یہ قبۃ الاسلام نہیں ہے؟ کیا ہم یہ بات نہیں کہتے؟ یہ کہ ظہر ہو جائے، ظہر کو ایک گھنٹہ بھی گزر جائے، کوئی سڑک پر چل رہا ہو مگر اسے احساس تک نہ ہو کہ ظہر ہو گئی ہے، کیا یہ صورتِ حال اس دعوے سے میل کھاتی ہے؟!
مساجد سے اذان کی آواز نشر کرنے کی ضرورت
کچھ عرصہ پہلے میں نے اذان کے بارے میں تاکید کی تھی، اور البتہ یہ بھی کہا تھا کہ صبح کے وقت ہر جگہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہ دی جائے تاکہ لوگ نیند سے بیدار نہ ہوں۔ لگتا ہے بعض مومنین نے اس کے دوسرے حصے پر پہلے حصے سے زیادہ کان دھرا! ہمارا مقصود یہ تھا کہ سحر کے وقت ہر جگہ کوئی نہ کوئی لاؤڈ اسپیکر نہ بجتا رہے؛ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ سحر کے وقت تہران جیسے شہر میں اذان کی آواز کانوں تک ہی نہ پہنچے! نہیں، تہران جیسی جگہ میں کم از کم اہم مساجد میں سے چند مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر سے اذان نشر ہو تو اچھا ہے؛ حتیٰ صبح کی اذان بھی۔ چھوٹے شہروں میں بھی اس شہر کی وسعت کے مطابق چند جگہوں پر صبح کی اذان نشر ہونی چاہیے۔ لیکن ظہر اور رات کو اذان دیں؛ لاؤڈ اسپیکر پر بھی، مساجد کے سامنے بھی، مساجد کے اندر بھی اور سڑکوں پر بھی، تاکہ لوگ اذان دینے کے عادی ہو جائیں۔
نماز قائم کرنا؛ صالحین کی حکومت کا پہلا ثمر اور پہلی نشانی
اقامۂ نماز کے لیے صاحبانِ نظر پر مشتمل ایک مجمع کی تشکیل، ان شائستہ ترین اور ضروری ترین کاموں میں سے ایک ہے جو اسلامی جمہوریہ میں انجام پانے چاہیے تھے؛ کیونکہ نماز قائم کرنا صالحین کی حکومت کا پہلا ثمر اور پہلی نشانی ہے؛ اور اس کے بعد کے درجے میں ”زکوٰۃ“ کی باری آتی ہے، جو معاشرے کے مالی نظم اور غربت کی بیخ کنی کے مترادف ہے، اور نیز ”امر بالمعروف و نہی عن المنکر“ کی، یعنی نیکیوں کی طرف لے جانا اور برائیوں سے روکنا؛ ”الّذینَ اِن مَکّنّاهُم فی الأرضِ أَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوا الزَّکاةَ وَأمَرُوا بِالمَعروفِ وَنَهَوا عَنِ المُنکَرِ“۔
اقامۂ نماز صرف یہ نہیں ہے کہ صالحین خود نماز پڑھیں؛ یہ ایسی چیز نہیں جو الٰہی حکومت کی تشکیل پر موقوف ہو؛ بلکہ ضروری ہے کہ دین کے اس ستون کو معاشرے میں قائم کیا جائے اور ہر کوئی اس کے اسرار اور اشاروں سے آشنا اور اس کی برکات سے بہرہ مند ہو۔ معنویت کی درخشندگی اور ذکرِ الٰہی کی پاکیزگی معاشرے کے تمام آفاق کو روشن اور مصفّا کر دے، اور جسم اور جانیں ایک ساتھ نماز کی طرف لپکیں اور اس کی پناہ میں طمانینت اور استحکام پائیں۔
نماز کے فروغ کی ذمہ داری اسلامی معارف سے آشنا افراد پر
حقیقت یہ ہے کہ نماز کے تعارف کے کام میں بہت کوتاہیاں ہوئی ہیں؛ اور نتیجہ یہ کہ نماز نے ابھی تک، حتیٰ ہمارے اسلامی نظام میں بھی، اپنا شایانِ شان مقام حاصل نہیں کیا ہے۔ یہ بھاری ذمہ داری دانشوروں اور اسلامی معارف سے آشنا افراد کے کندھوں پر ہے کہ وہ نماز کو سب سے، بالخصوص نوجوان نسل سے، بہتر طور پر متعارف کرائیں۔ پرائمری اسکول کے بچے سے لے کر اعلیٰ مدارج کے محقق تک، ہر ایک اپنے ذہن اور معرفت کے مطابق نماز اور اس کے اسرار کی پہچان کی راہ میں کچھ قدم اٹھا سکتا ہے اور کچھ نامعلوم باتوں سے آشنا ہو سکتا ہے۔ حتیٰ بڑے بڑے عرفاء نے بھی وادیِ معرفت کے سالکین کے لیے ”اسرار الصلوٰۃ“ لکھی اور سکھائی ہیں؛ یعنی اس سمندر کی گہرائیاں اب بھی نامعلوم اور طے کیے جانے کے قابل ہیں۔
نماز کی ثقافت کے فروغ میں ریڈیو، ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری
ہمارے معاشرے میں تمام سطحوں پر نماز کے تعارف کا ایک اہم باب کھلنا چاہیے۔ ذرائع ابلاغ، اور بالخصوص ریڈیو اور ٹیلی ویژن کا ادارہ، مختلف طریقوں سے نماز کا تعارف کرائیں اور اس کی یاد دہانی کرائیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ہر جگہ اور ہمیشہ نماز کو ترجیح دی جائے اور دلوں میں ایمان کا شوق اور یادِ خدا کی پیاس پیدا ہو۔
ایک ایسی بے رونق نمازِ جماعت کو دکھانا جس میں گنتی کے چند لوگ ہوں اور وہ بھی تھکے ماندے اور بے نشاط، نمازِ جماعت کا فروغ نہیں ہے؛ جس طرح کہ سمعی و بصری ذرائع ابلاغ سے اذان کی آواز نشر کرنا کافی نہیں ہے۔ ہمارے جوان پورے ملک میں جماعت کی ہزاروں پرجوش اور پرکیف صفیں تشکیل دیتے ہیں؛ بہت سے لوگ، جن کی زندگی کے حقائق کی عکاسی میں سینمائی فلمیں بنائی جاتی ہیں، اہلِ نماز و نیاز اور اہلِ تہجد ہیں؛ بہت سے گلے اذان کے وقت ایمان اور تعبّد کے جذبے سے اس روحانی ترانے کے ساتھ آواز بلند کرتے ہیں؛ بڑے بڑے گروہ نماز کے وقت روزمرہ کام سے ہاتھ کھینچ کر مسجد کا رخ کرتے ہیں؛ یہ سب فنی تخلیقات میں اس نجات بخش فریضے کا خوبصورت اور ترغیب دلانے والا چہرہ سب کو دکھا سکتے ہیں۔
یہ جو ڈرامے دکھائے جاتے ہیں – سیریلز وغیرہ میں – ان میں بعض اوقات فلم میں جو مکالمہ ہوتا ہے، اس کا ایک لفظ سامنے والے پر بڑا اثر ڈالتا ہے؛ کبھی ایک لفظ۔ ایک جملہ ممکن ہے بہت سے جوانوں کو نمازی بنا دے؛ ہرگز ضروری نہیں کہ لوگوں کو نماز پڑھنے کی ترغیب دلانے کے لیے ہم لازماً کسی کا وضو کرنا اور نماز پڑھنا دکھائیں۔ بعض اوقات اگر آپ فنکارانہ طور پر ایک جملہ انہی مکالموں میں – آپ کی اصطلاح میں ڈائیلاگز میں – شامل کر سکیں، تو عین ممکن ہے کہ ایک جملہ لوگوں کو نماز کی طرف مائل کر دے۔
ملک کے تمام بڑے انجینئرنگ منصوبوں کے لیے مسجد اور نمازخانے کے ضمیمے کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت
تمام بڑے انجینئرنگ کاموں کے ساتھ مسجد اور نمازخانے کا ایک ضمیمہ ہونا چاہیے۔ جب ہم میٹرو کا ڈیزائن بناتے ہیں تو میٹرو اسٹیشن کے لیے اس میں مسجد کو ملحوظ رکھا جائے؛ ریلوے اسٹیشن ڈیزائن کرتے ہیں، ہوائی اڈہ ڈیزائن کرتے ہیں، اس میں مسجد ضرور رکھی جائے۔ کوئی ٹاؤن شپ ڈیزائن کرتے ہیں تو اس میں ضروری مراکز میں مسجد، جس کی ممکن ہے ایک سے زیادہ کی ضرورت ہو، ضرور ملحوظ رکھی جائے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ایک ٹاؤن شپ کا ڈیزائن بنائیں اور اس کی سڑکیں بنانا بھول جائیں؟ کیا سڑکوں کے بغیر کوئی ٹاؤن شپ ہو سکتی ہے؟ مسجد کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ مسجد کے بغیر ٹاؤن شپ کا کوئی مطلب نہیں۔ جب بڑے پیمانے پر عمارتیں بنانے والے، بڑے پیمانے پر تعمیر کے لیے اجازت نامہ لینا اور عمارتیں بنانا چاہتے ہیں، تو جو نقشہ وہ پیش کرتے ہیں اور جس کی بنیاد پر اجازت نامہ جاری ہوتا ہے، اس میں نمازخانہ رکھا جانا چاہیے۔ ہمیں نمازخانے کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے۔
ہوائی جہازوں کی پرواز اور ٹرینوں کی روانگی میں اقامۂ نماز کے اوقات اور سہولتوں کا لحاظ رکھنے کی ضرورت
مختلف پروازوں میں – اندرونِ ملک، بیرونِ ملک، دور دراز کی – جو نماز کے وقت پر محیط ہوں، نماز کے مسئلے کا ضرور لحاظ رکھا جائے۔ اگر ممکن ہو تو پرواز سے پہلے اور پرواز کے بعد نماز کا وقت موجود ہو؛ ایسا نہ ہو کہ مثلاً فرض کیجیے صبح کی اذان سے پہلے روانہ ہوں اور سورج نکلنے کے بعد منزل پر پہنچیں؛ نہیں، پروگرام اس طرح ترتیب دیں کہ لوگ اپنی نماز پڑھ سکیں؛ یا پہلے، یا بعد میں۔ اگر ممکن نہ ہو – کبھی اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک پروازوں اور فضائی راستوں کے لحاظ سے ایسی مجبوریاں پیش آ جاتی ہیں کہ یہ ممکن نہیں ہوتا – تو ہوائی جہاز کے اندر نماز پڑھنے کی سہولتیں فراہم کریں، اور البتہ قبلے کی سمت بخوبی معلوم کی جا سکتی ہے؛ یعنی پائلٹ ماہر ہوتے ہیں، سمجھتے ہیں، جانتے ہیں؛ تاکہ جو لوگ ہوائی جہاز کے اندر نماز پڑھنا چاہیں، پڑھ سکیں۔ البتہ ٹرینوں کی روانگی کا معاملہ بھی بطریقِ اولیٰ ایسا ہی ہے۔
آج ہمارے ملک میں ان پہلوؤں کا انقلاب سے پہلے کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے۔ آپ میں سے اکثر کو انقلاب سے پہلے کا زمانہ یاد نہیں ہے۔ عجیب حالت تھی! یہاں بھی اور بعض دوسری جگہوں پر بھی۔ ہم عراق گئے تھے، ایک مرتبہ عتبات کی زیارت سے مشرف ہوئے، ہم نے صبح کی نماز کے لیے ہر طرح کی کوشش کی مگر گاڑی نہیں رکی؛ یعنی ممکن ہی نہیں تھا؛ ایسا نظام بنا رکھا تھا کہ ممکن نہیں تھا۔ اور میں مجبور ہو گیا کہ ٹرین کے آخری حصے سے، جو اسٹیشن کے قریب یا اسٹیشن کے ابتدائی حصے پر تھا، خود کو کھڑکی سے باہر گرا دوں تاکہ نماز پڑھ سکوں؛ کیونکہ ٹرین کے اندر گندگی تھی اور نماز نہیں پڑھی جا سکتی تھی۔ بہرحال، ان چیزوں کا ذرا بھی لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ اب بہت فرق آ گیا ہے؛ البتہ اس سے زیادہ کی توقع ہے۔ نماز کی اہمیت واضح ہونی چاہیے۔
انقلاب سے پہلے اور بعد کے دو ادوار میں اقامۂ نماز کا موازنہ
آج اسلامی جمہوریہ میں اقامۂ نماز کا انقلاب سے پہلے کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے۔ انقلاب سے پہلے نماز پڑھنا ایک عیب تھا، اور تہران یونیورسٹی کی اسی مسجد میں بہت ہی محدود تعداد میں لوگ جا کر نماز پڑھتے تھے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ مجھے کوئی کام تھا اور میں کسی کی تلاش میں وہاں گیا تھا تو مسجد خالی تھی اور کئی ہزار طلبہ میں سے گنتی کے چند افراد کے سوا کوئی مسجد کا رخ نہیں کرتا تھا۔
ماحول میں نماز پڑھنا، خصوصاً بعض ماحولوں میں، اگر انسان کہیں پھنس جاتا اور نماز پڑھنا چاہتا تو سب تماشا دیکھتے تھے اور یہ باعثِ تعجب ہوتا تھا۔ اس زمانے میں اگر کسی جوان کی تعریف کرنا چاہتے تو کہتے تھے: یہ جوان بہت اچھا ہے اور نمازی ہے؛ نمازی یعنی بہت اچھا۔ نمازی ہونا ایک طرح کی تقدس مآبی شمار ہوتا تھا؛ اور پھر وہی شخص بھی اگر کبھی کوئی کام ہوتا، کوئی میٹنگ ہوتی، یا کوئی درس ہوتا، یا کوئی اچھی اور دلچسپ ملاقات طے ہوتی، تو نماز کو بڑی آسانی سے چھوڑ دیتا تھا؛ لیکن آج ایسا نہیں ہے۔ آج ہمارے جوان یونیورسٹی میں اور یونیورسٹی سے باہر نماز کے طلبگار، نماز کے شائق اور نماز کے پابند ہیں؛ لیکن یہ کافی نہیں ہے، لہٰذا آپ کو اپنے ماحول میں ایسا کام کرنا چاہیے کہ نماز کو رواج ملے۔
اقامۂ نماز کے معیارات
کچھ نشانیاں اور معیارات ایسے ہیں کہ جب کبھی اور جہاں کہیں وہ دکھائی دیں، کہا جا سکتا ہے: نماز کا حق ادا ہو گیا ہے۔
۱- نماز کا ہمہ گیر ہونا
پہلی نشانی نماز کا ہمہ گیر ہونا ہے۔ یہ بہت بڑی ناشکری ہے کہ کوئی اسلامی ماحول میں زندگی بسر کرے اور نماز کو، جو ہر مسلمان کا سب سے برتر فرض ہے، ادا نہ کرے۔ ایسا شخص خدا کے نزدیک اور خدا کے بندوں کے نزدیک روسیاہ اور اپنے حق میں قصوروار ہے، کیونکہ اس نے خود کو نماز کی برکات سے محروم کر لیا ہے اور نماز کے بارے میں کوتاہی کی ہے۔ جب اسلامی معاشرے میں بوڑھے، جوان اور نوجوان سب کے سب، ہر سماجی یا خاندانی حیثیت میں، زمان و مکان اور موسم کے تمام حالات میں، اور آسائش و تکلیف اور خوشی و غم میں، نماز کو دین کی بنیاد اور ایک مسلمان کی زندگی کے ایک حصے کے طور پر ادا کریں اور کسی بھی بہانے سے جان بوجھ کر اسے ترک نہ کریں، تو نماز کا حق ادا کرنے کی سب سے اہم نشانی ظاہر ہو گئی ہے۔
۲- نماز کو بطریقِ احسن ادا کرنا
ایک اور نشانی نماز کو بطریقِ احسن ادا کرنا ہے؛ یعنی نماز کے کلمات کے معنی و مفہوم کی طرف توجہ کے ساتھ اور خشوع و حضور کے ہمراہ۔ اور یہی نماز کی روح ہے، جس کے بغیر نماز ایک بے جان ڈھانچہ ہے، جو اگرچہ کم سے کم شرعی تکلیف کو ساقط کر دیتا ہے، لیکن تشریع کے تمام اہداف و مقاصد کو پورا نہیں کرتا؛ یہ ایک بات ہوئی۔ البتہ یہ تعلیم اور مشق کا بھی محتاج ہے، اور اگر الٰہی مدد سے یہ حاصل ہو جائے تو اپنے ساتھ دینی جذبے کی گہرائی اور ایمان و عمل کی بے شمار برکات بھی لائے گا۔
۳- مساجد کی رونق اور باجماعت نمازوں میں اضافہ
ایک اور نشانی مساجد کی آبادی اور باجماعت نمازوں میں اضافہ ہے، اور یہ سماجی تعاون اور ہمدلی کی سطح پر نماز کی برکات کے ظہور کے معنی میں ہے۔ بلاشبہ یہ فریضہ بھی، باطنی عامل یعنی توجہ، ذکر اور حضور پر اپنے تمام تر انحصار کے باوجود، دیگر دینی واجبات کی طرح انسانی زندگی کے پورے میدان سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ اس کے ایک حصے سے، یعنی ہر شخص کی انفرادی اور ذاتی زندگی سے۔ اور جہاں معاشرے کے افراد کی اجتماعی سرگرمی اور نشاط کا معاملہ درمیان میں آتا ہے، وہاں نماز گرم ترین اور پرجوش ترین اجتماعی عبادت کے طور پر ایک بڑا کردار سنبھالتی ہے۔ اس خصوصیت کا مظہر یہی پنج گانہ باجماعت نمازیں، نمازِ جمعہ اور عید کی نمازیں ہیں۔
۴- علمی مطالعات اور تحقیقات کے میدان میں نماز کے موضوع کو پیش کرنا
ایک اور نشانی علمی مطالعات اور تحقیقات کے میدان میں نماز کا زیرِ بحث آنا ہے؛ جس طرح نماز اور اس کے مقدمات کے بارے میں فقہی بحث حوزہ ہائے علمیہ میں طویل ترین فقہی مباحث کو تشکیل دیتی ہے، اسی طرح نماز کی کلامی، عرفانی اور سماجی بحث کو بھی معاشرے کی سطح پر زیرِ بحث آنے والے دینی مباحث کا ایک اہم سلسلہ وجود میں لانا چاہیے۔ دین سے آگاہ افراد، محققین اور مصنفین اس بارے میں مقالات، تحقیقات اور کتابیں تیار کریں، اور دین کی تبلیغ کے تمام مقامات پر مختلف زبانوں اور طریقوں سے اور مختلف زاویوں سے نماز کی بحث بار بار پیش کی جائے۔ مختلف تعلیمی مراحل کی درسی کتابوں میں، مناسبت کے لحاظ سے، نماز کے بارے میں ایک مختصر یا مفصل، لیکن بہرحال گہرا اور ٹھوس باب شامل کیا جائے۔
۵- ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں نماز کے درسوں کا بیان
ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نماز کو ایک ایسے موضوع کے طور پر لیا جائے جسے سب کو سکھانا ضروری ہے، اور کسی الگ پروگرام میں یا مختلف پروگراموں کے ضمن میں اس کے بارے میں گفتگو ہو اور اس کی گہرائیاں، اسرار اور درس تمام لوگوں کے لیے بیان کیے جائیں۔ مساجد وغیرہ میں دینی تقاریر میں بارہا اور بارہا نماز کے معارف کو بھی اس کے مسائل کی طرح بیان کیا جائے۔
۶- عوامی اور سرکاری مقامات میں مناسب نمازخانے کی تعمیر
ایک اور نشانی یہ ہے کہ تمام عوامی اور سرکاری جگہوں اور عمارتوں میں ایک شایانِ شان نمازخانہ رکھا جائے اور ہر جگہ سب کے لیے نماز ادا کرنا ایک ایسا کام شمار ہو جو دسترس میں ہو۔
۷- معاشرے کی نمایاں شخصیات اور بزرگوں کی نمازخانوں میں موجودگی
ایک اور نشانی یہ ہے کہ معاشرے کے بزرگ اور وہ لوگ جن پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں اور انگلیاں جن کی طرف اٹھتی ہیں، نماز کے عوامی مراکز میں دکھائی دیں، اور عوامی مراکز کے نمازخانوں کو بیکار یا نچلے طبقے کے لوگوں سے مخصوص نہ سمجھا جائے؛ اور وہ دوسری نشانیاں جن تک تدبر کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں یہ تمام نشانیاں پیدا ہو جائیں تو بجا طور پر کہنا چاہیے کہ اس معاشرے میں نماز کا حق ادا ہو گیا ہے، اور یہ نشانیاں جتنی زیادہ ہوں، نماز کا حق ادا کرنے کی طرف رجحان اتنا ہی زیادہ ہے۔
اقامۂ نماز کے لیے راہ گشا سفارشات
۱۔ نماز کی گہرائی کی وضاحت اور اس کے اسرار اور خوبصورتیوں کے تعارف کے لیے مسلسل اور ہمہ جہت کوشش کی جائے۔ یونیورسٹیوں کی معارف کی کتابوں، یونیورسٹی سے پہلے کے مراحل کی درسی کتابوں اور سب کے لیے قابلِ فہم چھوٹے کتابچوں میں اس بارے میں نغز اور پُرمغز باتیں اور بہت سے نئے مضامین شامل کیے جائیں۔اسلامی معارف سے آشنا افراد نماز کی شان، اس کی روح، اس کے مضمون اور فرد و معاشرے کی جان پر اس کے اثر کی وسعت کو رسا اسلوب میں واضح کریں، اور بالخصوص فنکار اس مقصد کے لیے فن کے کارآمد وسائل سے استفادہ کریں۔
۲۔ ماں باپ بچوں اور نوجوانوں کو اس فریضے کی ظاہری صورت اور معنی سے آشنا کریں، اور اگر دوسروں سے مدد لینی ہو تو دلچسپ اور آسان فہم کتابیں اپنے بچوں کو پڑھ کر سنائیں۔
۳۔ اسکولوں کے اساتذہ نماز کے وقت نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اسکولوں کے نمازخانوں میں حاضر ہونے کی ترغیب دیں اور خود سب سے پہلے نماز کی طرف لپکیں۔
۴۔ اسکولوں میں تربیتی امور کے ذمہ داران نماز کو تربیتی پروگراموں میں سرِفہرست رکھیں۔
۵۔ ملک میں کھیلوں کے ذمہ داران، نماز کی یاد دہانی اور اقامۂ نماز کے ذریعے کھیل کے ماحول میں روح پھونکیں، اور کھیلوں کے مقابلوں کا وقت مقرر کرتے ہوئے نماز کے وقت کو خالی رکھیں اور میدان اور وقت کو نماز کی ادائیگی کے لیے تیار کریں۔
۶۔ ٹرین، ہوائی جہاز اور ان جیسے دیگر سفری ذرائع کی آمد و رفت کی منصوبہ بندی کرنے والے، اپنی منصوبہ بندیوں میں مسافروں کی نماز کے وقت اور امکان کے تحفظ کو ملحوظ رکھیں۔
۷۔ مساجد کی شایانِ شان طریقے سے گرد و غبار سے صفائی کی جائے اور مسجد کی خدمت کو ایک عوامی اور ہمہ گیر کام سمجھا جائے۔محترم ائمۂ جماعت مساجد کو ہمیشہ سے زیادہ فعال بنائیں اور نماز کے ترجمے، مفہوم اور روح کی تعلیم کو نئے اور پرکشش انداز میں اپنے پروگراموں میں شامل کریں۔
۸۔ نمازِ صبح مساجد میں قائم کی جائے۔
۹۔ نماز کے فقہی احکام آسان اور رواں انداز میں شائع کیے جائیں، اور دوسری قوموں کے درمیان بھیجنے کے لیے کتابچے اور مناسب صوتی اور تصویری کیسٹیں تیار کی جائیں۔
۱۰۔ خوش آواز افراد کے گلے سے اذان ہر جگہ نشر ہو اور کوئی شہر اور کوئی محلہ اذان کے نغمے سے محروم نہ رہے۔
۱۱۔ ہر شہر میں نمازِ جمعہ، اس کی انتظامی کمیٹیوں میں دانشمندوں اور اہلِ معرفت کی شرکت سے زیادہ ثمر بخش ہو۔
۱۲۔ انتظامی اور سرکاری اداروں کے سربراہان خود ان اداروں میں اقامۂ نماز کی ذمہ داری سنبھالیں۔
۱۳۔ فوجی چھاؤنیوں میں نماز کی تعلیم اور اس پر عمل کو موجودہ صورت سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جائے۔
۱۴۔ بیابانی شاہراہوں پر کافی تعداد میں مسجدیں تعمیر کی جائیں، اور راستے میں آنے والے شہروں میں پورے ۲۴ گھنٹے کھلی اور تیار مسجد موجود ہو۔
۱۵۔ جو شہر اور ٹاؤن شپس نئے تعمیر ہو رہے ہیں، ان میں جامع مسجد کو پہلی عمارت اور شہر کا حقیقی مرکز قرار دیا جائے اور تعمیر کیا جائے۔
۱۶۔ تمام اجتماعات میں نماز کا وقت آتے ہی نماز قائم کی جائے، اور جو اجتماعات اپنے ہجوم کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے ایسا کرنے سے قاصر ہیں، ان کا نظام الاوقات اس طرح مرتب کیا جائے کہ وہ نماز کے وقت سے نہ ٹکرائے۔
۱۷۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ان تمام شہروں سے جہاں حوزۂ علمیہ اور دینی علوم کے طلاب موجود ہیں، ہر شبِ جمعہ کچھ گروہ دیہاتوں میں بھیجے جائیں۔ دین اور معنویت کے ان پیغام رسانوں کا اولین نعرہ اقامۂ نماز ہونا چاہیے۔اور خلاصہ یہ کہ ملک کے شہروں اور دیہاتوں کی حالت ایسی بنا دیں کہ جو بھی ان میں نیا نیا داخل ہو، وہ انہیں نماز کے اہتمام کا ماحول اور ایسی جگہ سمجھے جہاں نماز قائم کی جاتی ہے۔
۱۸۔ جو علمائے دین اور فضلاء مختلف سرکاری شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے لیے مناسب ہے کہ ان مساجد کی معنوی آبادکاری کی طرف توجہ دیں جن میں نمازِ جماعت قائم نہیں ہوتی؛ اور مسجد میں امامت کو بھی ایک بڑی ذمہ داری سمجھیں۔