نمازِ جمعہ
اہلِ بیت (علیہم السلام) کی روایات میں نمازِ جمعہ کا مقام
اسلام نمازِ جمعہ کو بہت اہمیت دیتا ہے... رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فعليه بالجمعة يوم الجمعة“؛ یعنی جو شخص بھی ایمان رکھتا ہے، اسے جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”والله لقد بلغنی ان اصحاب النّبی(صلّیاللهعلیهوآله) كانوا يتجهّزون للجمعة يوم الخميس“؛ یعنی پیغمبر کے اصحاب جمعرات کے دن اگلے دن کے لیے خود کو تیار کرتے تھے تاکہ نمازِ جمعہ میں جائیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المومنین (علیہ السلام) نے فرمایا: جمعرات کے دن کوئی ایسی دوا نہ کھائیں جو آپ کو بستر پر ڈال دے، کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلے دن کی نمازِ جمعہ آپ سے چھوٹ جائے۔
نمازِ جمعہ کے احترام کے بارے میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت ہے: ”ليتزيّن احدكم يوم الجمعة“؛ جمعہ کے دن اپنے آپ کو آراستہ کریں۔ ”يغتسل ويتطيّب و يسرّح لحيته“؛ غسل کریں، خوشبو لگائیں اور اپنے سر اور چہرے کو سنواریں۔ ”يلبس انظف ثيابه“؛ اپنے سب سے صاف ستھرے کپڑے پہنیں اور نمازِ جمعہ میں جائیں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ خدا کے فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون پہلے نماز گاہ میں داخل ہوا، اور اسی طرح لکھتے جاتے ہیں: پہلا شخص، دوسرا شخص، تیسرا شخص، پانچواں شخص، سوواں شخص؛ یہاں تک کہ امامِ جمعہ خطبہ پڑھنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یعنی جہاں تک ہو سکے، نمازِ جمعہ میں جلدی حاضر ہوں۔
ایک روایت میں ہے کہ مسلمانوں کا امام ان قیدیوں کو، جو قرض کی وجہ سے جیل میں پڑے ہوں، جمعہ کے دن یا عید کے دن نمازِ جمعہ یا نمازِ عید میں لائے اور ان پر محافظ بھی مقرر کرے، اور جب وہ نماز ختم کر لیں تو انہیں ان کے قید خانے میں واپس پہنچا دے؛ یعنی حتیٰ کہ قیدی بھی نمازِ جمعہ سے محروم نہ رہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ”لو يعلم امّتى ما لهم فيها“، اگر لوگ ان تین چیزوں کے فوائد جانتے، ”ليضربوا عليها بالسهام“، تو ان پر آپس میں جھگڑا کرتے۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں: اذان، نمازِ جمعہ کے لیے جلدی جانا اور پہلی صف میں کھڑا ہونا، جو ممکن ہے جہاد کی پہلی صف ہو یا نمازِ جمعہ کی پہلی صف۔
... ایک روایت میں فرمایا: ”من ترك الجمعة ثلاثاً تهاوناً طبع الله على قلبه“؛ جو شخص مسلسل تین جمعے بے اعتنائی کی بنا پر نمازِ جمعہ ترک کر دے – اگر کسی کو کوئی کام ہو تو وہ زیرِ بحث نہیں – خداوند اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
”عبادی – سیاسی“ نمازِ جمعہ
یہ نماز، نمازِ جمعہ ہے؛ اجتماع کی نماز ہے؛ بصیرت افروزی اور عوام کے ایک ایک فرد کو آگاہ کرنے کی نماز ہے؛ مومنین اور عوام کے ایک ایک فرد تک دنیا کے اطراف و اکناف کی خبریں پہنچانے کی نماز ہے۔ بحمد اللہ، انقلابِ اسلامی کی برکت سے ہم ایرانی عوام، جو خاص طور پر شیعہ نشین علاقوں میں اس بڑی نعمت اور عظیم الشان عبادت سے محروم تھے، ایک بار پھر اس نماز سے بہرہ مند ہوئے۔ آغاز ہی سے ہمارے ملک اور معاشرے میں اس نماز کا نام ”عبادی – سیاسی نماز“ پڑ گیا؛ یعنی ایک طرف اس کے معنوی پہلو، نفوس کی تربیت و تہذیب، انسان سازی اور معاشرے میں تقویٰ کی روح کے فروغ پر، جس کی اس نماز سے توقع تھی، توجہ دی گئی اور دوسری طرف اس کے سیاسی پہلو پر بھی؛ کیونکہ اسلامی نظام ایک ایسا نظام ہے جس کی بنیاد عوام کی آگاہی پر ہے، اور اگر عوام آگاہ اور مومن نہ ہوں تو اسلامی نظام درحقیقت اپنی روح کھو بیٹھے گا۔ یہ پہلو بھی ہماری نمازِ جمعہ میں ملحوظ رکھا گیا اور اس پر پوری توجہ دی گئی، اور تمام امور میں لوگوں کو ”تقویٰ“ کے کلمے، ”دین“ کے کلمے، ”جہاد“ کے کلمے اور ”اتفاقِ کلمہ“ پر جمع کرنا ان خصوصیات میں شامل ہو گیا جنہیں اس نماز میں ملحوظ رکھا گیا؛ لہٰذا کہا گیا: عبادی – سیاسی۔
نمازِ جمعہ، ذکرِ خدا اور دشمنوں سے جنگ کی علامت
نمازِ جمعہ ایک علامتی واجب ہے، ایک علامت اور رمز ہے؛ اولاً یہ نماز ہے اور ذکرِ خدا ہے؛ ثانیاً یہ ہتھیار ہے، خدا کے دشمن اور شیطانوں سے جنگ کی کیفیت ہے۔ امامِ جمعہ کو، جو نمازِ جمعہ کا رمز ہے، چاہیے کہ اپنے عصا کو ہتھیار قرار دے اور لوگوں کے سامنے کھڑا ہو اور ایک بڑے اجتماع میں ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد زبان سے بنیادی ترین، ضروری ترین اور اہم ترین مسائل لوگوں کے سامنے رکھے۔
نمازِ جمعہ کا احیاء، حضرت امام (رحمۃ اللہ علیہ) کی عظیم ترین خدمات میں سے ایک
ہمارے امامِ بزرگوار (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) کے عظیم ترین کاموں میں سے ایک یہی جمعہ کی نمازوں کو وجود میں لانا اور ان کی بنیاد رکھنا تھا۔ نمازِ جمعہ انہوں نے اس ملت کو عطا کی۔ برسہا برس سے ہم نمازِ جمعہ سے محروم تھے، یا ہمارے ہاں یہ نماز تھی ہی نہیں۔ اور جن جگہوں پر یہ شاذ و نادر ہی پائی جاتی تھی، وہاں بھی لامحالہ اس کا وہ اثر نہیں تھا جو نمازِ جمعہ اسلامی حکومت میں رکھ سکتی تھی۔
ملتِ ایران کے پاس نمازِ جمعہ نہیں تھی اور وہ اس نعمت سے محروم تھی؛ انقلاب نے اسے نمازِ جمعہ دی۔ ان بارہ برسوں کے دوران جمعہ کی نمازوں نے اس ملت اور اس ملک کی ترقیوں اور کامیابیوں میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، اور قوتوں کو متحرک کرنے، تعمیرِ نو اور عوام کی سیاسی و دینی رہنمائی میں ان کا نمایاں حصہ رہا ہے۔
نمازِ جمعہ، دشمنانِ اسلام کے منصوبے کو درہم برہم کرنے والی
جب تہران کی نمازِ جمعہ منعقد ہوتی ہے اور تہران میں ایک انقلابی شیعہ امامِ جماعت کے پیچھے اسلامی تحریکوں اور اسلامی ممالک کے سربراہان اور مسلمان قوموں کی معزز شخصیات کئی صفوں میں کھڑی ہوتی ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ نماز پڑھتی ہیں – اور ان چند برسوں کے دوران ہمارے ہاں مسلسل ایسی چیزیں ہوتی رہی ہیں – تو دشمنانِ اسلام کینے اور غصے سے بھر جاتے ہیں۔ یہ بالکل اس چیز کے برعکس ہے جس کے لیے انہوں نے پیسہ خرچ کیا ہے۔ انقلابِ اسلامی آیا اور اس نے ان کے تمام منصوبوں کو درہم برہم کر دیا؛ فطری بات ہے کہ وہ مقابلے کے درپے ہو جاتے ہیں۔
نمازِ جمعہ کے خلاف دشمنوں کے پروپیگنڈے کی وجہ
جب سے نمازِ جمعہ وجود میں آئی اور اس نماز نے ملک کے تمام شہروں میں اور خاص طور پر تہران میں لوگوں کو مختلف مسائل میں متحد کر دیا، اور دشمنوں نے دیکھا کہ جیسے ہی ملک میں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، سب جمعہ کے دن کے منتظر رہتے ہیں کہ دیکھیں نمازِ جمعہ کے منبر سے اس مسئلے کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا جاتا ہے، اور پھر وہی موقف ملک کی عمومی فضا بن جاتا ہے، تو انہوں نے اس کے خلاف لڑائی کی بنیاد ڈال دی۔ مجھے وہ شدید تبلیغاتی حملے اور وہ باتیں اچھی طرح یاد ہیں جو وہ انہی ۵۸، ۵۹ اور ۶۰ کے برسوں میں نمازِ جمعہ کے بارے میں کہا کرتے تھے – جنہیں ہم بھی کبھی کبھی نمازِ جمعہ میں بیان کرتے اور ان کا تانا بانا بکھیر دیتے تھے اور بات ختم ہو جاتی تھی۔ آج بھی یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ اگر کوئی یہ گمان کرے کہ نمازِ جمعہ، یکجہتی کے ایک مرکز کے طور پر – فکر میں یکجہتی، سیاسی روش میں یکجہتی، میلانات میں، جذبات اور محبتوں میں یکجہتی اور عوامی تحریکوں میں یکجہتی – اس نظام کے دشمنوں کی نظروں سے اوجھل ہے، تو اس نے غلطی کی ہے۔ وہ اب بھی نمازِ جمعہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں؛ جو کچھ بھی ان سے ہو سکتا ہے، نمازِ جمعہ کے خلاف کرتے ہیں۔اگر نمازِ جمعہ کسی قوم کی اسلام کی تربیت کے مطابق تربیت کر سکتی ہے – اسلام کی تربیت یعنی وہ تربیت جو ایک تمدن کو وجود میں لا سکی اور ان تمام تمدنوں اور ثقافتوں پر خطِ تنسیخ کھینچ سکی جو اس سے پہلے دنیا کے ایک وسیع خطے میں موجود تھیں، اور نمازِ جمعہ اسلامی تربیت کا وسیلہ ہے – تو وہ اس کے دشمن کیوں نہ ہوں؟ اس کے خلاف کتابیں کیوں نہ لکھیں؟! ایسی نمازِ جمعہ کے خلاف پروپیگنڈے پر تیل کے ڈالر کیوں نہ خرچ ہوں؟!
نمازِ جماعت
نمازِ جماعت؛ سماجی ہمدلی اور تعاون کا مظہر
[نماز کا حق ادا کرنے کی] ایک اور نشانی مساجد کی آبادی اور نمازِ جماعت میں اضافہ ہے، اور اس کا مطلب سماجی تعاون اور ہمدلی کی سطح پر نماز کی برکات کا ظہور ہے۔ بلاشبہ یہ فریضہ بھی، باطنی عنصر یعنی توجہ، ذکر اور حضور پر اپنے تمام تر انحصار کے باوجود، دوسرے دینی واجبات کی طرح انسانی زندگی کے پورے میدان سے تعلق رکھتا ہے، نہ کہ اس کے ایک حصے یعنی ہر شخص کی انفرادی اور ذاتی زندگی سے۔ اور جہاں معاشرے کے افراد کی اجتماعی سرگرمی اور نشاط کی بات آتی ہے، وہاں نماز سب سے پُرحرارت اور پُرجوش اجتماعی عبادت کے طور پر ایک بڑا کردار سنبھال لیتی ہے۔ اس خصوصیت کا مظہر یہی پنج گانہ نمازوں کی جماعتیں، نمازِ جمعہ اور عید کی نمازیں ہیں۔نمازِ جماعت کے فوائد میں سے ایک – جیسا کہ ذکر ہوا ہے – یہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے حال سے باخبر ہوں۔
نمازِ جماعت؛ دشمنوں کے مقابلے میں استقامت اور شجاعت کا عامل
آپ، عزیز ملت، آپ ایران کی عظیم ملت، آپ استقامت کرنے والی ملت ... شیطان کی کوشش کے باوجود اس کی ناک خاک میں رگڑنے میں کامیاب ہوئے ہیں؛ وہ کمزور ہو گیا ہے اور آپ کمزور نہیں ہوئے؛ اس نے بار بار کمزوری اور خوف محسوس کیا ہے، لیکن آپ نے کمزوری اور خوف محسوس نہیں کیا۔ آپ ملت، جب تک متحد ہیں، جب تک میدان میں ہیں، جب تک خدا سے آپ کا رابطہ ہے، جب تک آپ کے پاس ماہِ رمضان ہے، جب تک آپ کے پاس خانۂ خدا کا حج ہے، جب تک آپ کے پاس مسجد ہے، جب تک آپ کے پاس نمازِ جماعت ہے، جب تک آپ کے پاس امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، جب تک آپ کے پاس بسیجی جوان ہیں، جب تک آپ کے پاس ایسے مومن اور جدوجہد کرنے والے انسان ہیں جو خدا کی راہ میں جدوجہد کے لیے تیار ہیں، جب تک امامِ بزرگوار کی ہدایات آپ کے پاس ہیں، بڑے اور چھوٹے دشمن سے، سپر پاور اور اس کی ماتحت اور پیروکار طاقتوں سے، امریکہ اور یورپ سے اور کسی بھی دوسری طاقت سے ہرگز خوف نہ کھائیں۔